س-و-د لینے اور دینے والے اگر توبہ نہیں کرتے تو وہ اللہ اور اسکے رسول سے ج-ن-گ کے لئے تیار ہوجائیں

سود لینے اور دینے والے اگر توبہ نہیں کرتے تو وہ اللہ اور اسکے رسول سے جنگ کے لئے تیار ہوجائیں

بی کیو نیوز! س-و-د کھانے سے توبہ نہ کرنے والے لوگ ج-ہ-ن-م میں جائیں گے: لہذا جس شخص کے پاس اس کے پروردگار کی طرف سے نصیحت آگئی اور وہ (س-و-د-ی معاملات سے) باز آگیا تو ماضی میں جو کچھ ہوا وہ اسی کا ہے اور اس کی (باطنی کیفیت) کا معاملہ اللہ کے حوالہ ہے۔ اور جس شخص نے لوٹ کر پھر وہی کام کیاتو ایسے لوگ د-و-ز-خ-ی ہیں، وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ (سورۂ البقرہ ۲۷۵)

غرضیکہ سورۂ البقرہ کی ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہ-ل-ا-ک کرنے والے گ-ن-ا-ہ سے سخت الفاظ کے ساتھ بچنے کی تعلیم دی ہے اور فرمایاکہ س-و-د لینے اور دینے والے اگر ت-و-ب-ہ نہیں کرتے ہیں تو وہ اللہ اور اسکے رسول سے ل-ڑ-ن-ے کے لئے تیار ہوجائیں، نیز فرمایا کہ س-و-د لینے اور دینے والوں کو کل ق-ی-ا-م-ت- کے دن ذلیل ورسوا کیا جائے گا اور وہ ج-ہ-ن-م میں ڈالے جائیں گے۔ س-و-د کے متعلق نبی اکرم ﷺ کے ارشادات: حضور اکرم ﷺنے حجۃ الوداع کے موقعہ پر س-و-د کی حرمت کا اعلان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: (آج کے دن) جاہلیت کا س-و-د چھوڑ دیا گیا، اور سب سے پہلا -س-و-د جو میں چھوڑتا ہوںوہ ہمارے چچا حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا س-و-د ہے۔ وہ سب کا سب ختم کردیا گیا ہے۔ چونکہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ

س-و-د کی حرمت سے قبل لوگوں کو س-و-د پر قرض دیا کرتے تھے، اس لئے آپ ﷺنے فرمایاکہ آج کے دن میں اُن کا س-و-دجو دوسرے لوگوں کے ذمہ ہے وہ ختم کرتا ہوں۔ (صحیح مسلم ، باب حجۃ النبی) حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: سات ہ-ل-ا-ک- کرنے والے گ-ن-ا-ہو-ں سے بچو۔ صحابۂ کرام نے عرض کیا یارسول اللہ! وہ سات بڑے گ-ن-ا-ہ کونسے ہیں (جو انسانوں کو ہ-ل-ا-ک کرنے والے ہیں)؟ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرما: ش-ر-ک کرنا، ج-ا-د-و کرنا، کسی شخص کو ناحق ق-ت-ل کرنا، س-و-د کھانا، یتیم کے مال کو ہڑپنا، (-ک-ف-ا-ر کے ساتھ ج-ن-گ کی صورت میں) میدان سے بھاگنا اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا۔ (بخاری ومسلم)

حضور اکرم ﷺ نے س-و-د لینے اور دینے والے، س-و-د-ی حساب لکھنے والے اور س-و-د-ی ش-ہ-ا-د-ت دینے والے سب پر لعنت فرمائی ہے۔ س-و-د لینے اور دینے والے پر حضور اکرم ﷺ کی لعنت کے الفاظ حدیث کی ہر مشہور ومعروف کتاب میں موجود ہیں۔ (مسلم، ترمذی، ابوداود، نسائی)

Leave a Comment