پندرھویں صدی میں مسلمانوں کی ہڈیوں سے بنایا گیا چرچ دریافت

پندرھویں صدی میں مسلمانوں کی ہڈیوں سے بنایا گیا چرچ دریافت

غیرملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پندرھویں صدی میں مسلمانوں کی ہڈیوں سے بنایا گیا چرچ دریافت۔ یہ پرتگال کے شہر”ایوارا” میں دریافت ہوا ہے، اس کلیسا کو سیاحوں کےلیے کھولا جاچکاہے۔ تاریخی چرچ میں انسانی ہڈیوں سے بنی دیوار بھی دریافت ہوئی ہے۔ اس کو پوپ “فرانسس کانی” نے مکمل طور پر اندلس میں مارے گئے مسلمانوں کی ہڈیوں سے تعمیر کیا۔ تاریخی چرچ میں انسانی ہڈیوں سے بنی دیوار بھی دریافت ہوئی ہے اس کی دیواروں پر دو بچوں کی خشک لاشیں لٹک رہی ہیں جن کو گلہ گھونٹ ق ت ل کرکے سکھایا گیاتھا۔ اس کی دیواروں پر دو بچوں کی

خشک لاشیں لٹک رہی ہیں کہا جا رہا ہے ان تمام بچوں کو گلہ گھونٹ قتل کرکے سکھایا گیاتھا۔ غِرملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اس کو بنانے کےلیے 5ہزار مسلمانوں کے ڈھانچوں کو استعمال کیاگیا جن کو اندلس کے سقوط کے بعد نصرانیت قبول نہ کرنے پرقتل کیا گیا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ترتیب سے چنی ہوئیں ہڈیوں کی اس دیوار میں زیادہ تر ران اور پنڈلی کی مضبوط ہڈیاں شامل ہیں میڈیا رپورٹس کے مطابق ترتیب سے چنی ہوئیں ہڈیوں کی اس دیوار میں زیادہ تر ران اور پنڈلی کی مضبوط ہڈیاں شامل ہیں جبکہ کچھ ڈھانچے بھی ملے ہیں، آرکیالوجیکل ٹیم کے ترجمان کے مطابق خیال ہے کہ یہ 15 صدی میں موجود لوگوں کی ہڈیاں ہیں جس کی مزید تحقیقات کی ضرورت ہے اس کلیسا کو سیاحوں کےلیے کھولا جاچکاہے: سومنات کے مندر کا تو سوراغ نہیں ملتا لیکن ہزاروں مسلمانوں کے تن آج بھی مقدس کلیسا کی تہذیب یافتہ اقوام میں پائے جاتے ہیں۔ اس کلیسا کا نام Capela Dosossos ہے، یہ پرتگال کے شہر”ایوارا” میں ہے، اس کو پوپ “فرانسس کانی” نے مکمل طور پر اندلس میں مارے گئے مسلمانوں کی ہڈیوں سے تعمیر کیا، اس کی دیواروں پر دو بچوں کی خشک لاشیں لٹک رہی ہیں جن کو گلہ گھونٹ قتل کرکے سکھایا گیاتھا، اس کو بنانے کےلیے 5ہزار مسلمانوں کے ڈھانچوں کو استعمال کیاگیا جن کو اندلس کے سقوط کے بعد نصرانیت قبول نہ کرنے پرقتل کیاگیاتھا. کچھ لوگ لبرل اب ہمیں ان قوموں کی خوبیاں بیان کرتے ہیں ان سے متاثر ہیں. کیا پھر ان لاشوں کی طرح حال کے انتظار میں ہیں

Leave a Comment