جنت میں انسان کا قد کتنا ہو گا اور حضرت آدم ؑ کا قد کتنا تھا؟

جنت میں انسان کا قد کتنا ہو گا اور حضرت آدم ؑ کا قد کتنا تھا؟

بی کیونیوز! جنت میں انسان کا قد کتنا ہو گا اور حضرت آدم ؑ کا قد کتنا تھا؟ انسان جب جنت میں جائیں گے تو انکے قد کیا ہوں گے؟ ہماری سماجی اقدار ایسی ہوچکی ہیں کہ یہاں پست قد والوں کو مذاق کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ چھوٹے قد والوں کو تو یہ فکر پریشان بھی کرتی ہے اور سوال کرتے ہیں کہ کیا وہ اسی قد کے ساتھ جنت میں جائیں گے بخاری شریف، مسلم شریف اور احادیث کی دیگر کتب میں ایک حدیث اس بحث کا خاتمہ کرنے کے لئے کافی ہے کہ جنت میں جانے والے انسانوں کے قد

ساٹھ میٹر تک لمبے ہوں گے۔ اس حدیث کی روشنی میں مسلمانوں پر دو باتیں واضح کی گئی ہیں، ایک تو قد اور دوسرا بنی نوع انسان کو ایک دوسرے سے ملاقات کے وقت اسلام علیکم اور وعلیکم السلام کہنے کی ہدایت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا’’ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا۔ ان کا قد ساٹھ میٹر تھا، جب انہیں پیدا کردیا تو فرمایا کہ جاؤ اور فرشتوں کی اس جماعت کو سلام کرو جو بیٹھے ہوئے ہیں اور غور سے سننا کہ وہ تمہیں کیا جواب دیتے ہیں، کیونکہ وہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام ہوگا۔ چنانچہ انہوں نے کہا: السلام علیکم، تو انہوں نے کہا: السلام علیک ورحمۃ اللہ، فرشتوں نے لفظ رحمۃ اللہ کا اضافہ کیا۔ لہٰذا جو بھی جنت میں داخل ہو گا وہ حضرت آدم علیہ السلام کی صورت پر ہوگا اور ان کے بعد سے اب تک انسانوں کے قد کاٹھ میں کمی ہوتی آرہی ہے‘‘۔ تومومن پریہ واجب اورضروری ہے کہ وہ جس چیزکی اللہ تعالی نے خبردی ہے اس پرایمان جازم رکھے اور اسی طرح جس چیزکی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خبردی ہے اگروہ صحیح طورپرثابت ہوتواس پربھی ایمان لانا ضروری ہے ، اوراس ایمان میں ذرہ برابر بھی شک نہیں ہونا چاہیے۔

Leave a Comment