وادیٔ ثمود مسلمانوں کے لیے عبرت کی جگہ ہے

وادیٔ ثمود مسلمانوں کے لیے عبرت کی جگہ ہے

بی کیونیوز! وادیٔ ثمود مسلمانوں کے لیے عبرت کی جگہ ہے۔ قدیم جزیرۃ العرب کے شمال مغربی علاقے میں واقع،’’ وادی القریٰ‘‘ اپنی ہریالی و شادابی میں بے مثال ہے۔ اس وادی پر قومِ ثمود کی حکم رانی تھی، جب کہ اس کے مدّ ِمقابل، جنوب مشرقی عرب پر قومِ عاد قابض تھی۔ قومِ ثمود بھی قومِ عاد کی طرح نہایت طاقت وَر، طویل القامت اور زبردست شان و شوکت کی مالک تھی اور اسے فنِ تعمیر میں بھی کمال حاصل تھا۔ پہاڑوں کو تراش کر انتہائی خُوب صورت عمارتیں بنانے کا

فن گویا اُن پر ختم تھا۔ اس قوم کے دارالحکومت کا نام، حجر تھا، جو حجازِ مقدّس سے شام جانے والے قدیم راستے پر واقع تھا۔ اب یہ علاقہ ’’مدائنِ صالح‘‘ کہلاتا ہے۔ مدائنِ صالح کے قدیم شہروں میں ایک ’’العلا‘‘ ہے، جو آج بھی بہت پُررونق اور آباد ہے۔ مدینہ منورہ سے تبوک جاتے ہوئے بڑی شاہ راہ پر تقریباً ساڑھے چار سو کلومیٹر کی مسافت پر یہ شہر واقع ہے العلا شہر ہی سے وادیٔ ثمود میں داخلے کا راستہ ہے۔ سعودی حکومت نے وادیٔ ثمود کی تاریخی حیثیت کے پیشِ نظر 1972ء میں اسے سیّاحوں کے لیے کھول دیا تھا۔ یہاں کے ریلوے اسٹیشن کا نام بھی مدائنِ صالح اسٹیشن رکھا گیا ہے۔تاہم، وادی میں داخلے کے لیے محکمۂ سیّاحت سے اجازت نامہ لینا ضروری ہے۔ یہ لق ودق میدان، چٹیل بیابان18سے20مربع میل پر پھیلا ہوا ہے، جہاں ہزاروں ایکڑ کے رقبے پر وہ خُوب صورت تاریخی عمارات ہیں، جنہیں قومِ ثمود نے سخت سُرخ چٹانیں تراش کر بنایا تھا۔ دوسری جانب، نرم میدانی علاقوں میں عالی شان مکانات کے کھنڈرات ہیں۔ ایک ہزار سال قبلِ مسیح کے ان فن پاروں کو دیکھ کر آج کے جدید، ترقّی یافتہ انسان اور ماہرِ تعمیرات حیران رہ جاتے ہیں۔ سُرخ پہاڑوں کے اندر اس شہرِ خموشاں کی ہزاروں تاریخی عمارتوں کی موجودگی یہ بتاتی ہے کہ اُس زمانے میں بھی اس شہر کی آبادی چار یا پانچ لاکھ سے کم نہ ہو گی، جسے ان کی بداعمالیوں اور نافرمانیوں کے سبب ایک زوردار، تیز اور ہول ناک آواز کے ذریعے آناً فآناً ہلاک کر دیا گیا۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے’’اور ثمود کے ساتھ (کیا کیا) جو وادی (قریٰ) میں پتھر تراشتے (اور گھر بناتے) تھے۔‘‘ (سورۂ الفجر9:)۔ 2008ء میں اقوامِ متحدہ کے ادارے، یونیسکو نے اسے سعودی عرب کا پہلا عالمی وَرثہ قرار دیا۔

Leave a Comment