حضرت صالح ؑ کی قوم پرعذابِ الٰہی کے نزول کو قرآن پاک کیسے بیان فرماتا ہے؟

حضرت صالح ؑ کی قوم پرعذابِ الٰہی کے نزول کو قرآن پاک کیسے بیان فرماتا ہے؟

بی کیونیوز! حضرت صالح ؑکو اونٹنی کے قتل کا بڑا غم تھا اور اب اتمامِ حُجّت ہو چُکا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق اب عذاب آنا ہی تھا، لہٰذا حضرت صالح ؑنے اپنی قوم کو مطلع فرمایا کہ’’ اب تمہارے پاس عیش و عشرت کے صرف تین دن بچے ہیں، اس کے بعد ایک سخت عذاب تم پر نازل ہو گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’کہ جب اُنہوں نے کونچیں کاٹ ڈالیں، تو (صالح ؑنے) کہا کہ اپنے گھروں میں تین دن (اور) فائدے اٹھا لو۔ یہ وعدہ جھوٹا نہیں ہے۔‘‘ (سورۂ ہود65:)۔ حضرت صالح ؑکی بات سُن کر

وہ لوگ ہنسی مذاق اور استہزا کرنے لگے اور طنزیہ استفسار کیا کہ’’ یہ تین دن ہم کیسے گزاریں گے؟‘‘ حضرت صالح ؑنے فرمایا ’’پہلے دن تمہارے چہرے زرد ہو جائیں گے۔ دوسرے دن رنگ سُرخ ہو جائے گا اور تیسرے دن، تمہارے چہروں پر نحوست پوری طرح عیاں ہو جائے گی یعنی وہ سیاہ پڑ جائیں گے اور چوتھے دن تم پر قہرِ الٰہی نازل ہوگا‘‘۔ اور پھر جب تینوں دن ایسا ہی ہوا، تو وہ خوف زَدہ ہو گئے اور انتظار کرنے لگے کہ اب کس قسم کا عذاب نازل ہونے والا ہے؟ ابھی چوتھے دن کا سورج طلوع ہی ہوا تھا کہ آسمان سے ایک بہت تیز چیخ کی آواز چنگھاڑ کی صُورت بلند ہوئی، جس نے اُن کے کانوں کے پردے پھاڑ دیئے، دل دہلا دیئے۔ چیخ کی آواز کے ساتھ ہی اُن کی روحیں، جسموں کا ساتھ چھوڑنے لگیں اور وہ اپنی اپنی جگہوں پر اوندھے پڑے سسک سسک کر ختم ہونے لگے۔ کچھ ہی دیر میں لاکھوں افراد پر مشتمل نہایت قوی اور طاقت وَر قوم جانوروں کے کھائے ہوئے بُھوسے کی طرح ڈھیر ہو چُکی تھی اور کفروشرک میں مبتلا، غرور و تکبّر میں ڈوبے لوگوں کا شان دار اور بارونق شہر، شہرِ خموشاں میں تبدیل ہو کر ہمیشہ کے لیے عبرت کا نشان بن گیا۔ اللہ تعالیٰ کا قرآنِ پاک میں ارشاد ہے ’’اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا، اُن کو چنگھاڑ (کی صُورت میں عذاب) نے آ پکڑا، تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ گویا کبھی ان میں بسے ہی نہ تھے۔ سُن رکھو کہ ثمود نے اپنے پروردگار سے کفر کیا۔ اور سُن رکھو ثمود پر پھٹکار ہے۔‘‘ (سورۂ ہود68:، 67)۔ اللہ تعالیٰ نے اس عذاب سے حضرت صالح ؑاور اُن پر ایمان لانے والوں کو محفوظ رکھا۔ چناں چہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’جب ہمارا حکم آ گیا، تو ہم نے صالح ؑکو اور جو لوگ اُن کے ساتھ ایمان لائے تھے، اُن کو اپنی مہربانی سے بچا لیا اور اس دن کی رسوائی سے (محفوظ رکھا)۔ بے شک تمہارا پروردگار طاقت وَر (اور) زبردست ہے۔‘‘ (سورۂ ہود66:)

Leave a Comment