میرے ایک بزرگ دوست جوانی میں ارب پتی تھے

میرے ایک بزرگ دوست جوانی میں ارب پتی تھے

بی کیونیوز! میرے ایک بزرگ دوست جوانی میں ارب پتی تھے۔ لیکن ان کی زندگی کا آخری حصہ عسرت میں گزرا۔ مجھے انہوں نے ایک دن اپنی کہانی سنائی۔ انہوں نے بتایا ”میرے والد مل میں کام کرتے تھے۔ گزارہ مشکل سے ہوتا تھا‘ ان کا ایک کزن معذور تھا۔ کزن کے والدین فوت ہو گئے۔ اس کے آگے پیچھے کوئی نہیں رہا۔ میرے والد کو ترس آگیا‘ وہ اسے اپنے گھر لے آئے‘ ہم پانچ بہن بھائی تھے‘ گھر میں غربت تھی اور اوپر سے ایک معذور چچا سر پر آ گرا‘ والدہ کو وہ

اچھے نہیں لگتے تھے۔ وہ سارا دن انہیں کوستی رہتی تھیں‘ ہم بھی والدہ کی وجہ سے ان سے نفرت کرتے تھے لیکن میرے والد کو ان سے محبت تھی‘ وہ انہیں ہاتھ سے کھانا بھیکھلاتے تھے۔ ان کا پاخانه بھی صاف کرتے تھے اور انہیں کپڑے بھی پہناتے تھے‘ اللہ کا کرنا یہ ہوا‘ ہمارے حالات بدل گئے‘ ہمارے والد نے چھوٹی سی بھٹی لگائی‘ یہ بھٹی کارخانہ بنی اور وہ کارخانہ کارخانوں میں تبدیل ہو گیا‘ ہم ارب پتی ہو گئے‘ 1980ءکی دہائی میں ہمارے والد فوت ہو گئے‘ وہ چچا ترکے میں مجھے مل گئے‘ میں نے انہیں چند ماہ اپنے گھر رکھا لیکن میں جلدہی تنگ آ گیا ‘ میں نے انہیں پاگل خانے میں داخل کرا دیا‘ وہ پاگل خانے میں رہ کر انتقال کر گئے بس ان کے انتقال کی دیر تھی ہمارا پورا خاندان عرش سے فرش پر آ گیا‘ ہماری فیکٹریاں‘ ہمارے گھراور ہماری گاڑیاں ہر چیز نیلام ہو گئی‘ ہم روٹی کے نوالوں کو ترسنے لگے‘ ہمیں اس وقت معلوم ہوا ہمارے معذور چچا ہمارے رزق کی ضمانت تھے‘ ہم ان کی وجہ سے محلوں میں زندگی گزار رہے تھے‘ وہ گئے تو ہماری ضمانت بھی ختم ہو گئی‘ ہمارے محل ہم سے رخصت ہو گئے‘ ہم سڑک پر آ گئے۔ یہ واقعات آپ کےلئے ہیں۔ ہم نہیں جانتے ہم کن لوگوں کی وجہ سے زندہ ہیں‘ ہم کن کیرہے ہیں‘ ہم یہ بھی نہیں جانتے ہم کس کو بس سے اتاریں گے‘ ہم کس کو کشتی سے باہر پھینکیں گے اور ہم کس کے کھانے کی پلیٹ اٹھائیں گے اور وہ شخص ہمارا رزق‘ ہماری کامیابی اور ہماری زندگی ساتھ لے جائے گا‘ ہم ہرگزہرگز نہیں جانتے لہٰذا ہم جب تک اس شخص کو نہیں پہچان لیتے ہمیں اس وقت تک کسی کو بس‘ کشتی اور گھر سے نکالنے کا رسک نہیں لینا چاہیے‘ کیوں؟ کیونکہ ہو سکتا ہے ہمارے پاس جو کچھ ہو وہ سب اس شخص کا ہو اور اگروہ چلا گیا تو سب کچھ چلاجائے‘ ہم ہم نہ رہیں‘ مٹی کا ڈھیر بن جائیں۔

Leave a Comment