حضرت عیسیٰ ؑ د-ج-ا-ل کا خاتمہ کرنے کے لیے نبی کریم ﷺ کی کونسی ت-ل-و-ا-ر استعمال کریں گے اور وہ ت-ل-و-ا-ر- اس وقت کہاں موجود ہے

حضرت عیسیٰ ؑ دجال کا خاتمہ کرنے کے لیے نبی کریم ﷺ کی کونسی تلوار استعمال کریں گے اور وہ تلوار اس وقت کہاں موجود ہے

بی کیونیوز! حضور نبی کریم ﷺ کی 9مبارک ت-ل-و-ار-و-ں میں سے ایک کا نام البتّار ہے۔ یہ ت-ل-و-ا-ر- سرکارِ دو عالم نبی اکرم حضرت محمدﷺ کو یثرب کے ی-ہ-و-د-ی قبیلے (بنو قینقاع ) سے مالِ غنیمت کے طور پر حاصل ہوئی۔ اس ت-ل-و-ا-ر کو (سیف الانبیاء ) نبیوں کی ت-ل-و-ا-ر بھی کہا جاتا ہے۔ اس ت-ل-و-ا-ر پر حضرت داؤود علیہ السلام‘ سلیمان علیہ السلام‘ ہارون علیہ السلام‘ یسع علیہ السلام‘ زکریا علیہ السلام‘ یحییٰ علیہ السلام‘ عیسی علیہ السلام اور

محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اسماء مبارکہ کنندہ ہیں۔ یہ ت-ل-و-ا-ر- حضرت داؤود علیہ السلام کو اس وقت م-ا-لِ غ-ن-ی-م-ت کے طور پر حاصل ہوئی جب ان کی عمر بیس سال سے بھی کم تھی۔ اس ت-ل-و-ا-ر- پر ایک تصویر بھی بنی ہوئی ہے جس میں حضرت داؤود علیہ السلام کو ج-ا-ل-و-ت کا سر-ق-ل-م کرتے دکھایا گیا ہے جو اس ت-ل-و-ا-ر کا اصلی مالک تھا۔ ت-ل-و-ا-ر پر ایک ایسا نشان بھی بنا ہوا ہے جو’’ بترا‘‘ شہر کے قدیمی عرب باشندے (البادیون) اپنی ملکیتی اَشیاء پر بنایا کرتے تھے۔ بعض روایات میں یہ بات بھی ملتی ہے کہ یہی وہ ت-ل-و-ا-ر- ہے جس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس دنیا میں واپس آنے کے بعد ’ک-ان-ے د-ج-ا-ل‘ کا خاتمہ کریں گے اور -د-ش-من-ا-نِ- اسلام سے ج-ہ-ا-د کریں گے۔ ت-ل-و-ا-ر کی لمبائی 101 سینٹی میٹر ہے اور آجکل یہ ت-ل-و-ا-ر- ترکی کے مشہورِ زمانہ عجائب گھر’ ’ت-و-پ کاپی‘‘ استنبول میں

محفوظ ہے۔ د-ج-ا-ل کے خاتمہ کے بعد حضرت عیسیٰؑ اسی حال میں ہوں گے کہ اچانک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے پاس یہ وحی آئے گی کہ میں نے ایسے بندے پیدا کئے ہیں جن سے ل-ڑنے کی قدرت و طاقت کوئی نہیں رکھتا۔ تم میرے بندوں کو جمع کر کے کوہ طور کی طرف لے جاؤ اور ان کی حفاظت کرو، پھر اللہ تعالیٰ ی-ا-ج-و-ج م-ا-ج-و-ج کو ظاہر کرے گا جو ہر بلند زمین کو پھلانگتے ہوئے اتریں گے اور دوڑ یں گے ان کی تعداد اتنی زیادہ ہو گی کہ جب ان کی سب سے پہلی جماعت بحر طبریہ سے گذرے گی تو اس کا سارا پانی پی جائے گی۔ پھر جب اس جماعت کے بعد آنے والی جماعت وہاں سے گذرے گی تو بحر طبریہ کو خالی دیکھ کر کہے گی کہ اس میں بھی کبھی پانی تھا۔ اس کے بعد ی-ا-ج-و-ج م-ا-ج-و-ج آگے بڑھیں گے۔ یہاں تک کہ جبل خ-م-ر تک پہنچ جائیں گے، جو بیت المقدس کا ایک پہاڑ ہے، اور ظ-ل-م و غ-ا-ر-ت گری، اذیت رسانی اور لوگوں کو پکڑنے، ق-ی-د کرنے میں مشغول ہو جائیں گے اور پھر کہیں گے کہ ہم نے زمین والوں

کی ختم کر دیا، چلو آسمان والوں کا خاتمہ کر دیں۔ چنانچہ وہ آسمان کی طرف اپنے ت-ی-ر پھینکیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ ان کے ت-ی-ر-وں- کو خ-و-ن -آ-ل-و-د- کر کے لوٹا دے گا تا کہ وہ اس بھرم میں رہیں کہ ہمارے ت-ی-رواقعتہً آسمان والوں کا کام تمام کر کے واپس آئے ہیں۔ گویا اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں ڈھیل دی جائے گی اور یہ احتمال بھی ہے کہ وہ -ت–ی-ر فضا میں پرندوں کو لگیں گے اور ان کے خ-و-ن سے آ-ل-و-د-ہ ہو کر واپس آئیں گے، پس اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ د-ج-ا-ل کا ف-ت-ن-ہ زمین تک ہی محدود نہیں رہے گا بلکہ زمین کے اوپر بھی پھیل جائے گا۔ اس عرصہ میں خدا کے نبی اور ان کے رفقا یعنی حضرت عیسیٰؑ اور اس وقت کے مومن کوہ طور پر روکے رکھے جائیں گے اور ان پر اسباب و معیشت کی تنگی و قلت اس درجہ کو پہنچ جائے گی کہ ان کے لئے بیل کا سر تمہارے آج کے سو دیناروں سے بہتر ہو گا۔ جب یہ حالت ہو جائے گی تو

اللہ کے نبی عیسیٰؑ اور ان کے ساتھی ی-ا-ج-و-ج م-ا-ج-و-ج کی ہ-ل-ا-ک-ت کے لئے دعا و زاری کریں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں نغف یعنی کیڑے پڑ جانے کی بیم-اری بھیجے گا جس سے وہ سب یک بارگی اس طرح م-ر جائیں گے جس طرح کوئی ایک شخص -م-ر جاتا ہے۔ یعنی نغف کی بی-م-اری کی شکلمیں ان پر خدا کا قہ-ر اس طرح نازل ہو گا کہ سب کے سب ایک ہی وقت میں م-و-ت کے گھاٹ اتر جائیں گے، اللہ کے نبی اور ان کے ساتھی اس بات سے آگاہ ہو کر پہاڑ سے اتر آئیں گے۔ اور انہیں زمین پر ایک بالشت کا ٹکڑا بھی ایسا نہیں ملے گا جو ی-ا-ج-و-ج م-ا-ج-و-ج کی چ-ر–ب-ی اور بد بو سے خالی ہو۔ اس مصیبت کے دفیعہ کے لئے حضرت عیسیٰؑ اور ان کے ساتھی اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے۔ تب اللہ تعالیٰ اونٹ کیگردن جیسی لمبی گردنوں والے پرندوں کو بھیجے گا جو ی-ا-ج-و-ج م-ا-ج-و-ج کی

ل-ا-ش-و-ں کو اٹھا کر جہاں اللہ کی مرضی ہو گی اٹھا کر پھینک دیں گے۔ ایک اور روایت میں یہ ہے کہ وہ پرندے ان ل-ا-ش-و-ں کو فہبل میں ڈال دیں گے۔ ( فہبل یہ در اصل ایک جگہ کا نام ہے جو بیت المقدس کے علاقہ میں واقع ہے۔ دوسرے معنی گڑھے کے ہیں اور ایک معنی پہاڑ سے گرنے کے ہیں۔ )اور مسلمان ی-ا-ج-و-ج م-ا-ج-و-ج کی ک-م-ا-ن-و-ں ت-ی-ر-و-ں اور ت-ر-ک-ش-و–ں کو سات سال تک چ-ل-ا-ت-ے رہیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ ایک زور دار بارش بھیجے گا جس سے کوئی بھی مکان خواہ وہ مٹی کا ہو یا پتھر کا اور خواہ صوف کا ہو نہیں بچے گا وہ بارش زمین کو دھو کر آئینہ کی طرح صاف کر دے گی۔ پھر زمین کو حکم دیا جائے گا کہ اپنے پھلوں یعنی اپنی پیداوار کو نکال اور اپنی برکت کو واپس لا، چنانچہ زمین کی پیداوار اس وقت اس قدر بابرکت اوربا افراط ہو گی کہ دس سے لے کر چالیس آدمیوں تک کی پوری جماعت ایک انار کے پھل سے

سیراب ہو جائے گی۔ اور اس انار کے چھلکے سے لوگ سایہ حاصل کریں گے۔ نیز دودھ میں برکت دی جائے گی۔ یعنی اونٹ اور بکریوں کے تھنوں میں دودھ بہت ہو گا۔ یہاں تک کہ دودھ دینے والی ایک اونٹنی لوگوں کی ایک بڑی جماعت کے لئے کافی ہو گی۔ دودھ دینے والی ایک بکری آدمیوں کی ایک چھوٹی سی جماعت کے لئے کافی ہو گی۔بہرحال لوگ اس طرح کی خوش حال اور امن و چین کی زندگی گذار رہے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ایک خوشبو دار ہوا بھیجے گا جو ان کی بغل کے نیچے کے حصہ کو پکڑے گی۔ (یعنی اس ہوا کی وجہ سے ان کی بغلوں میں درد پیدا ہو گا )اور پھر وہ ہوا ہر مومن اور ہر مسلمان کی روح ق-ب-ض کر لے گی اور صرف ب-دکار اور ش-ر-ی-ر لوگ دنیا میں باقی رہ جائیں گے جو آپس میں گدھوں کی طرح مختلط ہو جائیں گےاور ان ہی لوگوں پر ق-ی-ا-م-ت قائم ہو گی۔ اس پوری روایت کو مسلمؒ نے نقل کیا ہے۔

Leave a Comment