یوریک ایسڈ ایک خاموش قاتل ہے، اس کو کم کرنے والی غذائیں

یوریک ایسڈ ایک خاموش قاتل ہے، اس کو کم کرنے والی غذائیں

بی کیونیوز! یوریک ایسڈ ایک خاموش ق ا ت ل ہے، اس کو کم کرنے والی غذائیں اور عام طور پر لوگوں کو پتہ نہیں چلتا کے جسم میں یوریک ایسڈ بڑھ رہا ہے ہائپرورسیمیا جسم میں یوریک ایسڈ بڑھنے کی ایک خطرناک بیماری ہے جو دل گُردوں جگر وغیرہ کو متاثر کرنے کیساتھ ساتھ ہائی کولیسٹرول اور شوگر جیسی خطرناک بیماریوں کا باعث بنتی ہے. جب کوئی اس بیماری کا شکار ہوتا ہے تو عام طور پر اُسے بلکل احساس نہیں ہوتا کہ وہ ہائپرورسیمیا کو شکار ہو رہا ہے. ہمارے جسم میں یوریک ایسڈ کی نارمل مقدار جو کہ

2.4 سے لیکر 6.0 ایم جی تک ہے ہر وقت موجود ہوتی ہے. اور جو یوریک ایسڈ زیادہ مقدار میں ہوتا ہے وہ عام طور پر پیشاب کے راستے خارج ہو جاتا ہے مگر اگر اس کی مقدار جسم میں بڑھ جائے. تو پھر یہ خون میں شامل ہوکر جسم کے اہم اعضا کو شدید نقصان پہنچاتا ہے اور خطرناک بیماریوں کا باعث بنتا ہےخون میں پیورائنز بھی یوریک ایسڈ پیدا کرتے ہیں یہ جسم کے اندر خود بخود بھی پیدا ہوتے ہیں. اور ہمارے بہت سے کھانے بھی پیورائنز کی زیادہ تعداد پر مشتمل ہوتے ہیں جن سے جسم میں یوریک ایسڈ کی مقدار بڑھ جاتی ہے یہ پیورائنز خون میں شامل ہوکر ٹُوٹ جاتے ہیں اور یوریک ایسڈ میں بدل جاتے ہیں. اور جب ہمارے جسم کا یوریک ایسڈ لیول 7.0 ایم جی سے اوپر جاتا ہے تو یہ یوریک ایسڈ تباہی پھیلانا شروع کرتا ہے یہ گُردوں میں پتھری بننے کا سبب بنتا ہے اور ہڈیوں کے جوڑوں کو متاثر کرتا ہے اور مریض جوڑوں کے درد میں مُبتلا ہو جاتا ہے عام طور پر یہ یوریک ایسڈ پاؤں اور اُنگلیوں کے جوڑوں کو متاثر کرتا ہے کھانے جو یوریک ایسڈ بڑھاتے ہیں سُرخ گوشت گُردے کپورے مغز وغیرہ میں پیورائن کی بڑی مقدار شامل ہوتی ہے. جو خون میں شامل ہوکر یوریک ایسڈ بڑھناے کا باعث بنتی ہےایسے کھانے جس میں خمیر (خمیری روٹی وغیرہ) کا استعمال کیا جاتا ہے یا ایسے مشروبات جس میں اس کو شامل کیا جاتا ہے اپنے اندر پیورائن کی ایک بڑی مقدار رکھتے ہیں اور جسم میں یوریک ایسڈ بڑھانے کا باعث بنتے ہیں. بعض سبز پتوں والی سبزیاں جیسے پالک گوبھی وغیرہ اور دالیں چنے ڈرائی فروٹ کیساتھ ساتھ مشرومز بھی جسم میں یوریک ایسڈ پیدا کرتے ہیں کھانے جو یوریک ایسڈ کا لیول کم کرتے ہیں ہمارے بہت سے کھانے ایسے ہیں جو جسم کو یوریک ایسڈ سے پاک کرتے ہیں. جن میں سر فہرست کھانے یہ ہیں. سیب: سیب کے اندر میلک ایسڈ کی ایک بڑی مقدار شامل ہوتی ہے جو جسم میں یوریک ایسڈ کو خارج کرنے میں انتہائی مدد گار ہے اس کے علاوہ 100 گرام سیب میں صرف 14 ملی گرام پیورین شامل ہوتی ہے جو کھانے کیساتھ یوریک ایسڈ بڑھنے کے چانسز

کو کم کرتی ہے. لیموں: لیموں وٹامن سی بھرپور ہوتا ہے اوروٹامن سی یوریک ایسڈ کے کرسٹلز اور خون میں شامل دیگر آلودگی کو صاف کرنے میں انتہائی مددگار ہے. چیری: جسم میں یوریک ایسڈ کم کرنے کے لیے چیری بہترین فوڈ ہے چیری کے اندر ایسے عناصر پائے جاتے ہیں جو جسم میں اور خاص طور پر ہڈیوں کے جوڑوں میں یوریک ایسڈ کو کرسٹلز کی شکل اختیار کرنے سے روکتے ہیں اور جسم میں سے اس کو خارج کرنے میں مدد کرتے ہیں. گاجر: جو افراد یوریک ایسڈ کی بیماری کا شکار ہوں اُنہیں روزانہ ہر کھانے کیساتھ گاجر ضرور کھانی چاہیے کیونکہ یہ جسم سے آلودگی سمیت یوریک ایسڈ کو خارج کرنے میں کسی اکسیر سے کم نہیں. اجوائن: اجوائن کے بیج اومیگا 6 فیٹی ایسڈ سے بھرپور ہوتے ہیں اور ہمارے جسم کی صحت کے لیے انتہائی مُفید ہیں یہ جہاں نظام انہضام کی صفائی کرتے ہیں وہاں یہ جسم کو یوریک ایسڈ سے پاک کرنے میں اکسیر کا درجہ رکھتے ہیں کھانے جن میں پیورائن کم ہوتی ہے اور یوریک ایسڈ پیدا نہیں کرتےریفائینڈ سیریلز روٹی پاستا دودھ اور دودھ سے بنے کھانے سلاد کے پتے ٹماٹر سبز رنگ والی سبزیاں گوشت کی یخنی فروٹ جوسز اور خاص طور پر پانی پھل وغیرہ.

Leave a Comment