ایک صحابیِ رسولؐ نےفرشتوں کو آنکھوں سے دیکھا

ایک صحابیِ رسولؐ نےفرشتوں کو آنکھوں سے دیکھا

بی کیونیوز! قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اس سے بہتر کوئی کلام نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ بادشاہوں کا بادشاہ ہے۔ قرآن مجید کے اندر ایسی ایسی حکمتیں اور رحمتیں چھپی ہوئی ہیں جنہیں ہم اکثر محسوس نہیں کرسکتے۔ ہم قرآن مجید کو اس طرح نہیں پڑھتے جس طرح پڑھنے کا حق ہے۔ اگر ہم اسی طرح قرآن مجید کو پڑھیں تو اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کو اپنی نگاہوں سے دیکھ لیں۔ ایک صحابہ کا واقعہ نق۔ل کیا گیا ہے کہ نبی کریمﷺ کے ایک صحابی تھے۔ وہ ایک رات تہجد کی نماز پڑھ رہے تھے پاس ہی

گھوڑا باندھا ہوا تھا۔ دوسری طرف انکا چھوٹا سا بچا سویا ہوا تھا۔ تہجد کی نماز کے اندر انہوں نے قرآن مجید کی لمبی تلاوت شروع کردی ۔ تلاوت کے اندر ایسے مگن ہوئے ان کو جب تلاوت کی ل۔ذت آتی تو دل کرتا قرآن مجید کو اونچی آواز سے پڑھیں۔ جب اونچی آواز سے پڑھتے تو ساتھ باندھا ہوا گھوڑا اچھلتا اور دل میں خ۔وف پیدا ہوتا کہ گھوڑے کے اچھلنے کیوجہ سے کہیں بچے کو نق۔صان نہ پہنچ جائے۔ جب اونچا پڑھتے ل۔ذت آتی تو خ۔وف کی وجہ سے پھر آہستہ پڑھنے لگ جاتے تو پھر جب آہستہ پڑھتے تو قرآن مجید کی تلاوت کی ایسی ل۔ذت نہ آتی دوبارہ اونچا پڑھنا شروع کردیتے۔ پوری رات ان کے ساتھ یہی معاملہ ہے۔ کبھی قرآن مجید کی تلاوت اونچی آواز سے کرتے اور گ۔ھوڑے کے اچھلنے کیوجہ سے پھر آہستہ پڑھنا شروع کردیتے تو تہجد کی نماز پڑھنے کے بعد جب انہوں نے دعا کیلئے ہاتھ اُٹھائے۔ تو آسمان کے طرف دیکھا کہ ستاروں کی طرح روشنیاں جو آسمان کی طرف جارہی ہیں یہ دیکھ کر بڑے حیران ہوئے یہ کیا معاملہ ہے صبح ہوئی تو آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپﷺ کے سامنے یہ سارا واقعہ بیان کیا۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا وہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے تھے۔ جو تمہارا قرآن سننے کیلئے اللہ تعالیٰ کے عرش سے نیچے آئے تھے۔ آج تم اونچی آواز سے قرآن مجید پڑھتے رہتے مدینے کے لوگ اپنی آنکھوں سے فرشتوں کو دیکھتے۔ صحابہ کرام ؓ کا یہ حال تھا کہ جب وہ تلاوت کرتے تھے تو فرشتے بھی ان کی تلاوت سننے کیلئے آتے تھے۔ صحابہ کے ساتھ کئی ایسے واقعات ہوئے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رحمت کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا۔ ایک تو وجہ یہ تھی کہ ان کا ایمان ایسا تھا دوسری وجہ یہ تھی کہ قرآن مجید کو پڑھنے کا حق ادا کرتے تھے۔ اگر آج ہم اسی طرح قرآن مجید پڑھیں توہم بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کو دیکھ سکتے ہیں۔

Leave a Comment