طوفانِ نوح

طوفانِ نوح

بی کیونیوز! طوفانِ نوح حضرت آدمؑ کے بعد اُن کے بیٹے، حضرت شیثؑ نبی بنے، اُن کے بعد حضرت ادریسؑ آئے، لیکن میرا کام زور و شور سے جاری رہا۔ اللہ تعالیٰ نے میرے لیے اپنی رَسّی دراز کی ہوئی تھی۔ دُنیا کے باسی گم راہی اور ضلالت کے گڑھوں میں دھنسے ہوئے تھے، جگہ جگہ بُتوں، آگ اور سُورج کی پرستش کی جا رہی تھی۔ مَیں نہایت کام یابی کے ساتھ لوگوں کو

دین سے دُور کرنے میں مصروف تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک اور نبی، حضرت نوحؑ کو مبعوث فرمایا۔ اُن کے آنے کے بعد پہلی مرتبہ دُنیا میں مجھے اور میرے پیروکاروں کو تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں تک کہ میری پوری قوم طوفانِ نوح میں غرق ہوگئی اور مَیں ایک بار پھر دُنیا میں اکیلا رہ گیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحؑ کے واقعے کا قرآنِ کریم میں 43 بار ذکر کیا ہے

Leave a Comment