حضرت محمدﷺ نےحضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کےبارےمیں کیوں کہا کہ وہ علم کا دروازہ ہیں؟

حضرت محمدﷺ نےحضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کےبارےمیں کیوں کہا کہ وہ علم کا دروازہ ہیں؟

بی کیو نیوز! حضرت محمدﷺ نےحضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کےبارےمیں کیوں کہا کہ وہ علم کا دروازہ ہیں؟ حضور اکرمﷺ کو آخری غسل دیا جارہاتھا، تو پانی کے چند قطرے آپؐ کی پلکوں پر ٹھہر گئے. حضرت شیخ عبدالحق محقق و محدّث رحمتہ اللّہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللّہ عنہُ سے پوچھا گیا کہ آخر آپ ( رضی اللّہ عنہُ ) میں اِتنا عِلم ( علومِ غیبہ ) کہاں سے آ گیا؟ توحضرت علی رضی اللّہ عنہُ نے فرمایا کہ جب میں حضور نبی اکرم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کو

آخری غُسل دے رہا تھا، تو پانی کے چند قطرے نبی کریم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی پلکوں پر ٹھہر گئے اور میں نے ان قطروں کو چُوس لیا. بس پِھر کیا تھا، عِلم و ادراک کا سمندر میرے اندر ٹھاٹھیں مارنے لگا. تو( صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم ) کے غُسل کے پانی چند قطروں میں یہ کمال تھا کہ ان کو چُوس کر حضرت علی رضی اللّہ عنہُ کے سینے میں عِلم و ادراک کا سمندر موجزن ہو گیا. نبی ( صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم ) کے علومِ غیبیہ کی اِنتہا کون جانے. حضرت علی المرتضی کے دریائے فیض میں علم کا فیضان بھی وہ خزانہ ہے جس کا حصول ہماری ذمہ داری ہے. سیرتِ سیدنا حضرت علی مشکل کشا کرم اللہ وجہہ الکریم ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ان کی فضیلت کا ایک پہلو علم ہے، کہ اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی المرتضی پر جو فضل کیا، اس میں علم ایک اہم وصف ہے۔ ہم سب نے ہی وہ حدیث سنی ہوگی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ۔ قابل غور بات یہ ہےکہ حضرت سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم کی محبت کے دو مرتبے ہیں: ایک زبانی، دوسرا عملی بلا شبہ حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہسے زبانی اظہارِ محبت اور قلبی عقیدت بھی ہمارے دل کی ٹھنڈک ہے۔ لیکن اگر بات کی جائے عملی پہلو کی، تو علم دین کا حصول،قرآن کریم کی تفسیر، احادیث طیبہ کی معرفت۔ دین کے بنیادی مسائل کا احاطہ ہیں۔ یہ وہ بنیادی چیزیں ہیں جن کو پانے کے بعد اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت میں بندہ ترقی کرتا ہے۔ اور اللہ تعالی اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب اور معرفت پانے کا اہم ذریعہ علم دین ہے، اور دین کا علم ایسے افراد سے لیا جائے گا۔ جن کا سلسلہ علم حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ملتا ہو اور اس دروازے سے داخل ہو کر ہی مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پہنچنا ممکن ہوتا ہے۔

Leave a Comment