ہیکل سلیمانی کیا ہے؟

ہیکل سلیمانی کیا ہے؟ اور یہودی اسے مسجد اقصیٰ کی جگہ کیوں تعمیر کرنا چاہتے ہیں؟

بی کیونیوز! ہیکل سلیمانی بنی اسرائیل نے آخر یروشلم سمیت ارض فلسطین کی مختلف آبادیوں پر قبضہ کرلیا۔ عبرانی بائبل کی رو سے حضرت سلیمانؑ کے دور میں حرم شریف یا ٹیمپل ماؤنٹ کے مقام پر عبادت گاہ تعمیر ہوئی جو ہیکل سلیمانی کہلاتی ہے۔ قرآن پاک میں ہیکل سلیمانی کا تذکرہ موجود نہیں البتہ سورہ سبا کی آیات 12 اور 13 میں آیا ہے: ’’کچھ جن اس کے (حضرت سلیمانؑ) کے تابع تھے۔ وہ جو چاہتا، اس کے لیے بناتے۔ قلعے، مجسّمے، حوض کی طرح

کے لگن اور ایک جگہ جمی ہوئی دیگیں۔‘‘ مسلمان تو یقین رکھتے ہیں کہ حضرت داؤدؑ اور ان کے فرزند،حضرت سلیمانؑ نے مسجد ابراہیمی کو نئے سرے سے تعمیر فرمایا مگر خود یہود و نصاری میں شکوک وشبہات پائے جاتے ہیں۔ اسرائیل فنکلسٹین(Israel Finkelstein) اور نیل ایشر(Neil Asher Silberman) اسرائیل کے دو ممتاز اثریات داں ہیں۔ ان دونوں نے 2002ء میں ایک کتاب’’The Bible Unearthed: Archaeology’s New Vision of Ancient Israel and the Origin of Its Sacred Texts‘‘ لکھی۔ کتاب میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ ہیکل سلیمانی یہود کی ریاست، یہودا کے بادشاہ، یوسیاہ (Josiah) نے تعمیر کرایا تھا۔ اس بادشاہ کا دور حکومت 649 ق م (قبل مسیح) سے 609 ق م رہا ہے ۔جبکہ عبرانی بائبل کی رو سے ہیکل سلیمانی 931 ق م تا 920 ق م کے مابین تعمیر ہوا۔ ان اسرائیلی ماہرین آثار قدیمہ کا دعویٰ ہے کہ یوسیاہ کے دور حکومت سے تین سو سال پہلے حضرت سلیمانؑ کی ریاست اتنی دولت مند اور طاقتور نہیں تھی کہ وہ ہیکل سلیمانی جیسی بڑی عمارت تعمیر کرلیتی۔ امریکا کی ماہر اثریات، کیتھلین کینیون (1906ء۔ 1978ء) بیسویں صدی کی نامور ماہر آثار قدیمہ ہے۔ اس نے 1961ء تا 1967ء ’’شہر داؤد‘‘ (City of David) میں کھدائیاں کی تھیں۔ ماضی میں حرم شریف کے اردگرد کا علاقہ ’’شہر داؤد‘‘ کہلاتا تھا۔ عبرانی بائبل کی رو سے اسے حضرت داؤدؑ نے آباد کیا تھا۔ کیتھلین کینیون(Kathleen Kenyon) نے شہر داؤد میں کھدائیوں کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس علاقے سے ہیکل سلیمانی کے کوئی آثار نہیں ملے۔ امریکا کا سائنس داں، ارنسٹ ایل مارٹن (1932ء۔ 2002ء) آثار قدیمہ سے بھی دلچسپی رکھتا تھا۔ یہ 1961ء کی بات ہے، جب ارنسٹ مارٹن(Ernest L. Martin) کی ملاقات اسرائیل میں ’’بابائے آثار قدیمہ‘‘ بینجمن مازار ( Benjamin Mazar) سے ہوئی۔ بنجمن نے اپنے امریکی ممدوح کو بتایا کہ یروشلم میں یہ قدیم روایت ملتی ہے کہ ہیکل سلیمانی اور

دوسرا ہیکل ’’اوفل ‘‘(Ophel) ٹیلے پر واقع تھے۔یروشلم میں حرم شریف اور شہر داؤد کے درمیان واقع بلند مقام اوفل کہلاتا ہے۔یہ چشمہ ام الدراج کے عین سامنے واقع تھا۔ ارنسٹ ایل مارٹن پھر تحقیق کرنے لگا کہ کیا ہیکل سلیمانی اور دوسرا ہیکل بھی اس جگہ واقع تھے؟ارنسٹ مارٹن نے اپنی تحقیق کی بنیاد پر ایک کتاب’’The Temples that Jerusalem Forgot‘‘ لکھی جو 1999ء میں شائع ہوئی۔ کتاب میں اس نے دعویٰ کیا کہ ہیکل سلیمانی اور دوسرا ہیکل بھی اوفل ٹیلے پر واقع تھے۔ لیکن یروشلم کے حاکم، شمعون حسمونی(Simon the Hasmonean)نے اپنے دور حکومت( 142ق م تا 135 ق م)میں نیا ہیکل حرم شریف میں تعمیر کرا دیا۔ بعدازاں رومیوں کے باج گزار یہودی حکمران، ہیروداول(Herod the Great) نے اپنے دور (37 تا4 ق م )میں اسی ہیکل کو توسیع دی اور اسے عظیم الشان عمارت میں ڈھال دیا۔ یاد رہے، بابل کے بادشاہ، نبوکد نصر نے 586 ق م میں یروشلم تباہ کردیا تھا اور ہیکل سلیمانی بھی ملیامیٹ کرڈالا۔ وہ پھر تمام یہود کو غلام بناکر بابل لے گیا۔ صرف بوڑھے یہودی ہی یروشلم میں مقیم رہے۔ 539 ق م میں ایرانی بادشاہ، سائرس اعظم نے بابل فتح کرلیا۔ اس نے یہود کو واپس یروشلم جانے اور نیا ہیکل بنانے کی اجازت دے دی۔دوسرا ہیکل 537 تا 515 ق م کے درمیان تعمیر ہوا۔ یہ بھی ہیکل سلیمانی کے مانند تھا۔ عبرانی بائبل کے مطابق ہیرود اول نے اسی کو توسیع دی اور حرم الشریف میں عظیم الشان ہیکل تعمیر کروایا۔ مگر ارنسٹ مارٹن اور ان کے نظریات سے اتفاق کرنے والے دیگر ماہرین اثریات کا دعویٰ ہے کہ پہلے اور دوسرے ہیکل اوفل ٹیلے پر تعمیر ہوئے جو نسبتا ًچھوٹا ٹیلہ تھا۔گویا شمعون حسمونی اور ہیرود اول نے تیسرا ہیکل حرم الشریف میں تعمیر کرایا جو چوڑائی، لمبائی اور اونچائی میں زیادہ بڑا ٹیلہ تھا اور یہ کہ اس ٹیلے پر حضرت سلیمانؑ کے دور حکومت میں قلعے تعمیر ہوئے تھے۔

Leave a Comment