ایک ایساپھل جس کاذکرقرآن پاک میں7 بارآیا ہے، اس پھل کاشوگرکے لئےسعودی ڈاکٹرکاخودپرآزمایا ہوانسخہ، جس سےآپ بھی شوگرکوختم کرسکتےہیں

ایک ایساپھل جس کاذکرقرآن پاک میں7 بارآیا ہے، اس پھل کاشوگرکے لئےسعودی ڈاکٹرکاخودپرآزمایا ہوانسخہ، جس سےآپ بھی شوگرکوختم کرسکتےہیں

بی کیونیوز! ایک ایساپھل جس کاذکرقرآن پاک میں7 بارآیا ہے، اس پھل کاشوگرکے لئےسعودی ڈاکٹرکاخودپرآزمایا ہوانسخہ، جس سےآپ بھی شوگرکوختم کرسکتےہیں. ڈاکٹر حسان شمسی پاشا 1988 سے جدہ شہر کے اسپتال (مستشفى الملك فهد للقوات المسلحة) میں دل کے امراض کے اسپیشلسٹ کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ ان کی کارکردگی اختصارکے ساتھ ویکیپییڈیا پر دیکھی جا سکتی ہے۔ آپ نے طب نبوی، دل کے امراض اور عام صحت کے مسائل پر پر بھی خوب

تحقیق کی ہے. اورکافی کتابیں لکھی ہیں۔ آپ کی ایک کتاب (زيت الزيتون بين الطب والقرآن) اپنے انداز کی ایک انوکھی کتاب ہے۔ یہ مضمون ان کے دیئے ہوئے ایک درس کا خلاصہ ہے جو آپ نے ایک کانفرنس میں بتایا. عوام الناس کے فائدے کیلئے اس کا ترجمہ یہاں دیا گیا ہے انہوں نے اپنی کتاب میں اپنے بارے میں یوں لکھا ہے. کہ جب مجھ پر یہ بھید کھلا کہ مجھے شوگر ہو گئی ہے اور اس کا لیول 500 تک پہنچا ہوا ہے. تو میرے پیروں کے تلے سے زمین ہی نکل گئی۔ لوگوں کے مشورے ایسے آنے لگے گویا ہر دوسرا شخص حکیم ہو. اورمیں اس دوائی کا خود تجربہ کر چکا ہوں۔ بس ایسا سمجھئے کہ ایک مہینے کی سخت جدوجہد اور ورزشی و محنت اور مشقت اٹھا کر شوگر نہار منہ 200 اور ناشتے کے بعد 300 تک پہنچ سکی۔ دیسی دوائیوں کا بھی کوئی حیلہ نا چھوڑا مگر کوئی خاص افاقہ نا ہو سکا۔ اس مرحلے پر میں نے طے کیا کہ اپنے آپ کو ہلکان کرنے والی بھاگ دوڑ چھوڑ کر اپنا علاج خود شروع کرتا ہوں۔ اور میں نے یہ تین ممکنہ طریقے سوچے. نمبر1پرتھاسخت ورزش اور کھانے پینے میں انتہائی پرہیز۔ نمبر 2پر تھا زیتون کے تیل کا استعمال۔ نمبر 3تھا کسی باقاعدہ اسپتال سے علاج کا شروع کروانا۔ ہر طرح کے علاج کا فائدہ دیکھنے کیلئے میں نے ایک ایک ہفتہ ان تینوں پروگرام پر عمل کرنا شروع کیا. تو نتائج کچھ یوں نکلے. پہلے ہفتے میں پروگرام نمبر 1 پر عمل کرنا: سخت اور کھٹن ورزش اور انتہائی پرہیزی کھانا پینا۔ (اس عمل میں پورا ہفتہ گزر گیا مگر افاقہ اتنا معمولی تھا جس کا ذکر بھی نہیں کیا جا سکتا۔ دوسرے ہفتے میں پروگرام نمبر 2 پر عمل کرنا اور زیتون کے تیل کا استعمال کرنا۔ اس ہفتے بہت ہی حیرت ناک تبدیلیاں پیش آئیں۔ ہفتے کے ابتدائی تین دنوں میں ہی شوگر ناشتہ کر چکنے کے بعد 180 درجے پر اور نہار منہ 100 درجے پر جا پہنچی۔ جبکہ ہفتے کے باقی دن کے عمل کے بعد شوگر کا لیول ناشتہ کر چکنے کے بعد 93 درجے تھا۔ (ناشتہ کر چکنے کے بعد، نہار منہ نہیں)۔ اس ہفتے بھر کے علاج کے بعد، میرے دل میں کئی سوچیں آئیں۔ کیا زیتون کا تیل ایک وقتی علاج ہے، بعد میں کیا ہوگا؟ کوئی بھی مریض اس پر عمل جاری رکھےیا

چھوڑ دے؟ کیا انسان کبھی کبھار ایسا کر لیا کرے اور پھرچھوڑ دیا کرے؟ کیا زیتون کا تیل انسانی لبلبہ کو دوبارہ کام کرنے کے قابل بنا دیتا ہے؟ کیا زیتون کا تیل انسانی خون میں شامل زیادہ شوگر کو چوس لیتا ہے؟ کیا زیتون کا تیل جسم میں انسولین کی پیداوار کو بہتر بناتا ہے؟ ہوسکتا ہے میری ان ساری باتوں میں دلچسپی لینے والے حضرات اب میرا جواب جاننے کے منتظر ہوں۔ میرے پاس بھی واضح جواب موجود نہیں ہے. مگر مجھے بس اس سے غرض ہے کہ زیتون کے تیل کے استعمال سے میرے خون میں پائی جانے والی شوگر کا لیول مسلسل گھٹتا چلاگیا اور شوگر سے پیدا ہونے والے اعذار جاتے رہے۔ باقی کی ساری باتیں غیر ضروری ہیں۔ زیتون کے تیل کو میں جس طرح استعمال کرتا تھا وہ یوں تھا کہ: دو یا دو سے زیادہ چمچ زیتون کا تیل سونے سے پہلے پی لینا۔ اور اتنی ہی مقدار صبح نہارمنہ (کلی کئے بغیر) پی لینا۔ اس میں سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ میں نے رات کو پی جانے والی تیل کی خوراک بس ایک ہفتے ہی استعمال کی، تاہم صبح نہارمنہ پینے والی خوراک کو میں نے اب تک برقرار رکھا ہوا ہے۔ یہاں میں ایک سوال کا مبہم سا جواب دینا چاہتا ہوں کہ:کیا شوگر میں کمی اور شوگر سے پیدا ہونے والے اعراض کا خاتمہ واقعی زیتون کے تیل کے استعمال سے ہی تھا؟ میرا جواب یہ ہے کہ مجھ پر تو یہی اشکار ہوا اور میرے ساتھ ساتھ ان تمام لوگوں پر بھی جنھوں نے میرے مشورے پر عمل کیا اور اس طریقے سے اپنا علاج کیا۔ میں یہاں ایک بات ضرور بتانا چاہونگا جو کہ میں نے خود محسوس کی اور وہ بہت ضروری بھی ہے کہ صبح نہارمنہ زیتون کا تیل پی چکنے کے بعد اور ناشتہ کرنے کا درمیانہ وقفہ جتنا زیادہ ہوگا افاقہ اتنا ہی زیادہ ہوگا۔ تاہم اتنا ضرور یاد رکھیئے کہ یہ مدت کم از کم ایک گھنٹہ ضرور ہو۔ مجھے زیتون کا تیل استعمال کرتے ہوئے آج ایک سال ہو چکا ہے اور مجھے یہ بتاتے ہوئے بہت فخر محسوس ہو رہا ہے کہ اللہ پاک کے کرم سے میری شوگر بہت ہی کنٹرول میں ہے۔ میرے اس بتائے ہوئے علاج سے لوگوں کے تاثرات کچھ یوں رہے. بعض نے پہلے دن ہی شوگر کا لیول 100 درجے گھٹ جانے کا بتایا تو کچھ نے یہ تبدیلی چار پانچ دنوں کے استعمال کے بعد مرتب ہوتی ہوئی بتائی۔ اکثر لوگوں نے پیروں کے ٹھنڈے یا گرم ہو جانے کی شکایت کا ازالہ ہو جانے کا بتایا. کچھ نے کہا کہ ان کے پیٹ سے متعلق کئی شکایتیں جاتی رہی تھیں۔ کچھ لوگوں نے تو یہاں تک بھی بتایا کہ اب انھوں نے شوگر کی دوائی کھانے کے معمول میں بھی تبدیلی کرناشروع کر دی ہے۔ شوگر کا ٹیکہ لگوانے والوں نے بتایا کہ انھوں نے یہ مقدار اب آدھی کرلی ہے اور اسے بھی ختم کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ اکثریت نے بتایا کہ اب ان کے پیروں یا گھٹنوں کا درد جاتا رہا ہے۔ بھنڈی کا کمال:بھنڈی ایک مقبول سبزی ہے اور اکثر گھروں میں پکائی جاتی ہے لیکن اس کا پانی کئی بیماریوں جیسے ذیابیطس‘

دمہ‘ کولیسٹرول اور گردے کی بیماریوں کیلئے بہت مفید ہوتا ہے۔ قرآن پاک میں سات جگہوں پر زیتون کا ذکر آیا ہے۔جو کہ زیتون کی افادیت بتانے والی سب سے بڑی سند ہے۔سورہ انعام آیت نمبر 99 میں اللہ تعالی فرماتے ہیں۔”اور باغات ،جن میں انگور،زیتون اور انار ہیں اگرچہ ایک جیسے مگر مختلف قسم کے ہیں۔پھل کو دیکھو جب وہ درخت پہ پک جاتا ہے تو اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے ہیں۔”اسی طرح ہمیں حدیث شریف سے بھی زیتون کے فائدہ مند ہونے کی مثال ملتی ہے ابو اسید نے کہا آپ ﷺ نے فرمایا؛”زیتون کا تیل کھاؤ اور اسے جسم اور بالوں پر استعمال کرو،کیونکہ یہ ایک بابرکت درخت کا پھل ہے۔(ترمذی 1775؛صحیح الجامی) بھنڈی کی وجہ سے نہ صرف آپ کا مدافعتی نظام بہتر ہو گا بلکہ کولیسٹرول کم رہے گا اور ساتھ ہی بلڈ شوگر لیول بھی ٹھیک رہے گا۔ ماہرین کے مطابق بھنڈی کو اوپر اور نیچے سے کاٹنے کے بعد اسے تین حصوں میں تقسیم کریں اور انہیں پانی سے بھرے ایک گلاس میں ڈالیں اور ساری رات پانی میں پڑا رہنے دیں‘ اس کے بعد صبح ناشتے کے بعد بھنڈی سے نکلنے والا پانی پی لیں. مزید پانچ آزمودہ نسخےیہاں بیان کار رہے ہیں. ذیا بیطس کا غذائی پرہیز ہی واحد علاج ہے۔ جدید میڈیکل سائنس بھی ذیابیطس کے حتمی علاج سے ابھی تک عاری ہےاور تاحال صرف شوگر کے توازن کو برقرار رکھنا ہی علاج کہلاتا ہے۔ جو دیسی،قدرتی ،یونانی علاج سے بھی ممکن ہے۔ درج ذیل تدابیر سےشوگر لیول کنٹرول اور مرض کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ 1. گٹھلی جامن خشک 100 گرام کوٹ چھان کر سفوف (پاؤڈر) بنالیں اور 5 گرام سفوف پانی کے ساتھ دن میں دو بارصبح نہار منہ اور شام 5 بجے لیں۔ 2. نیم کی کونپلیں 5 گرام پانی 50 ملی لیٹر میں پیس چھان کر صبح نہار منہ یا ناشتے کے ایک گھنٹے بعد لیں۔ 3. کریلہ کو کچل کر اسکا رس نچوڑ لیں یا جوسر میں اسکا جوس نکال لیں 25 ملی گرام یہ رس صبح و شام لیں. 4 . چنے کے آٹے (بیسن) کی روٹی اس مرض میں بہت مفید ہے۔ 5. لوکاٹ کے پتے 7 عدد ایک کپ پانی میں جوش دے کرچائے بنائیں اس ہربل ٹی کے ساتھ گٹھلی جامن کا 5 گرام سفوف صبح منہ نہار پھانک لیں۔ ان شآءاللہ چند دنوں میں شوگر کنٹرول ہو جائے گی۔ نشاستہ دار غذا؛ آلو، چاول، چینی وغیرہ سے پرہیز ضروری ہے. ھوالشافی

Leave a Comment