مسجد میں بچے، ان کی شرارتیں اور محلہ کے بڑے لوگ جومساجد میں بچوں کے ساتھ سختی اور تحقیر کا رویہ اختیارکرتے ہیں

مسجد میں بچے، ان کی شرارتیں اور محلہ کے بڑے لوگ جومساجد میں بچوں کے ساتھ سختی اور تحقیر کا رویہ اختیارکرتے ہیں

بی کیونیوز! مسجد میں بچے، ان کی شرارتیں اور محلہ کے بڑے لوگ جومساجد میں بچوں کے ساتھ سختی اور تحقیر کا رویہ اختیارکرتے ہیں. جب سے مسجد کی تعمیر نو ہوئی ہے۔ نمازیوں کی تعداد میں خاصا اضافہ ہوا ہے اور اب وہ ہر وقت پہلے سے زیادہ آباد رہتی ہے۔ رمضان میں تو عجب ہی منظر پیش کرتی ہے۔ ظہر کے بعد تلاوت کرنے والوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہوتی ہے۔ جن میں اکثریت بوڑھوں اور ادھیڑوں کی نہیں، جوانوں اور نابالغ بچوں کی ہوتی ہے۔ نماز ظہر کے ایک گھنٹے بعد میں نے اندازہ کیا تو

شاید بیس کے قریب بچے دس بارہ برس کے تھے۔ اور نماز بعد سے ہی ایک طرف ایک ساتھ بیٹھے تلاوت کررہے تھے۔ ان کم سنوں کو دیکھ کر ایک عجیب احساس ہوا جسے بیان کرنا مشکل ہے. میں سوچنے لگا کہ دیگر مساجد کے مقابلہ بچوں کی تعداد یہاں کیوں زیادہ ہوتی ہے؟ تبھی ایک بات ذہن میں آئی، ہماری مسجد میں بھی بچے اپنے بچپن کے ساتھ ہی آتے ہیں۔ تھوڑی بہت شرارتیں بھی کرتے ہیں، انہیں ٹوکا بھی جاتا ہے۔ سمجھایا بھی جاتا ہے، لیکن ان پر مارشل لا نافذ نہیں کیا جاتا۔ جب کہ اکثر مساجد میں بچوں کے ساتھ بہت سختی اور تحقیر کا رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ نتیجتا وہ مسجد آنے اور وہاں رکنے کی کم ہی ہمت کرتے ہیں. پرسوں تراویح کی بات یاد آئی، بچے پیچھے اپنے بچے ہونے کا ثبوت دے رہے تھے۔ سلام پھرا تو ایک صاحب ذرا تلخ آواز میں ان کی فہمائش کرنے لگے۔ میرے بغل میں کھڑے مصلی نے مجھ سے کہا: ہم لوگ اپنا بچپن بھول جاتے ہیں۔ اسی لیے غصہ آتا ہے، ورنہ یہ بچے کیا وہ شرارتیں کریں گے جو ہم نے کی ہیں، مسجد میں یہی سب کرتے کرتے ہم نمازی بن گئے تھے. بات کام کی تھی، بچوں کو ٹوکیے لیکن ایسے نہیں کہ وہ مسجد چھوڑدیں۔

Leave a Comment