جب ہم زمین پر سجدہ کرتے ہیں تو بمشکل تین تسبیحات پوری کرتے ہیں اور سر اٹھا لیتے ہیں

جب ہم زمین پر سجدہ کرتے ہیں تو بمشکل تین تسبیحات پوری کرتے ہیں اور سر اٹھا لیتے ہیں

بی کیونیوز! جب ہم زمین پر سجدہ کرتے ہیں تو بمشکل تین تسبیحات پوری کرتے ہیں اور سر اٹھا لیتے ہیں۔ اس سے نماز تو ہو جاتی ہے مگر رب سے آشنائی نہیں ہوتی۔ ہم نماز میں آٹو پہ لگے ہوتے ہیں ہم خود نہ جھکتے ہیں اور نہ اٹھتے ہیں، ہم اس دوران کہیں اور مصروف ہوتے ہیں۔ جیسے پائیلٹ جہاز کو آٹو پائیلٹ پر لگا کر خود سواریوں سے دعا سلام کر رہا ہوتا ہے۔ یعنی ہم رکوع کو رکوع سمجھ کر، سجدے کو سجدہ سمجھ کر اور قیام کو واقعی رب العالمین کے سامنے فرمانبرداری سمجھ کرکھڑے نہیں ہوتے۔ بلکہ ہماری کیفیت ٹھیک اس

کھلونے کی طرح ہوتی ہے۔ جس میں سیل ڈال دیئے گئے ہوں اور بٹن آن کر دیا گیا ہو۔ تو وہ خود بخود اوپر نیچے دائیں بائیں لڑھکتا پھرتا ہے۔ آپ جب کوئی میموری کارڈ کسی ڈیوائس میں ڈالتے ہیں تو وہ ڈیوائس پہلے اس میموری کارڈ کا جائزہ لیتی ہے۔ اس کو پڑھتی ہے، پھر پوچھتی ہے کہ اس میموری کارڈ کی حقیقت یہ ہے کہ اس میں فلاں فلاں چیز ہے، فلاں فلاں فولڈر ہے، اس کی اتنی سپیس استعمال ہو چکی ہے اور اتنی باقی ہے، پھر وہ آپ کو بتاتی ہے کہ سرکار آپ جو مواد اس پر کاپی کرنا چاہتے ہیں وہ کاپی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اس کارڈ میں جگہ کم ہے جبکہ مواد کا حجم زیادہ ہے، آپ کچھ مواد ڈیلیٹ کر کے مناسب جگہ بنائیں۔ ہم جب سجدہ کرتے ہیں تو زمین اس ماتھے کو ریڈ کرتی ہے، اس پروسیس میں کچھ دیر لگتی ہے، زمین سادا ہو تو جیبن کو پہچاننے میں تھوڑا وقت لگتا ہے، مصلی اور قالین جتنا موٹا ہو جیبن کو زمین سے رابطہ کرنے میں ویسی ہی زیادہ دیر ھوتی ہے۔ ہم زمین کے ماتھا ریڈ کرنے سے پہلے ہی اٹھا لیتے ہیں یوں جیسے جاتے ہیں ویسے آ جاتے ہیں نہ کچھ ڈیلیٹ ھوتا ہے اور نہ ہی کچھ کاپی پیست ہوتا ہے۔ اللہ کی بارگاہ میں سر ہو اور کچھ لئے بغیر اٹھ کر گھر آ جاؤ تو نماز اک مزاق ہی بن کر رہ جاتی ہے۔ جماعت میں مجبور بھی ہوں تو نوافل میں کسر نکال لینی چاہئے، کم از کم پانچ سات دفعہ کی تسبیح کے بعد ہی آپ دنیا کی ٹرانس سے نکل کر مینوئل پر آئیں گے۔ اور آپ کو اپنی ہیئت کا احساس ہو گا کہ آپ اس وقت کس پوزیشن میں ہیں، ہاتھ کہاں ہیں، ماتھا کہاں ہے، گھٹنے اور پاؤں کہا ہیں، جو جو چیز آپ کو یاد آتی جائے گی، اس کے بعد اب تسبیح کو الفاظ کی بجائے منہ بند کر کے سوچ کی زبان میں کہیں جتنی دیر بھی مزہ آتا رہے، جب اکتاہٹ محسوس ہو تو بیٹھ جائیں اور دو سجدوں کے درمیان کی دعا اپنی زبان میں یاد کر رکھیں اس کو پڑھیں، اے اللہ مجھے معاف فرما دے، اور مجھ پر رحم فرما، اور مجھے ہدایت دے دے، اور مجھے عافیت عطا فرما، اور مجھے رزق عطا فرما اور میرے دکھوں پر

مرہم پٹی کر دے۔ اللھم اغفر لی وارحمنی واھدنی وعافنی وارزقنی واجبُرنی، رزق کا مفہوم ذھن میں رکھیں کہ اس میں گندم اور چاول ہی نہیں بلکہ مال، اولاد، صحت، بصارت، سماعت اور خوشیاں سب رزق کہلاتی ہیں، اب آپ دوسرے سجدے کے لئے پک چکے ہیں، پہلے سجدے میں اسپیس بنی تھی دوسرے سجدے میں اس دعا کو پیسٹ کر دیں، صرف دو رکعتوں کے بعد ہی آپ اپنا وزن خود محسوس کرنا شروع کر دیں گے، اپنا آپ کبھی خالی خالی محسوس نہیں ہو گا، اور اب آپ کو اگلی نماز کا انتظار رہے گا۔ کیونکہ نماز میں ثواب کے ساتھ سواد بھی آیا ہےاور یہی سواد لذتِ آشنائی کہلاتا ہے۔

Leave a Comment