نمازعصر کے بعد سورۃ اخلاص ہمارے بتائے ہوئے طریقے سے پڑھنے کے فوائد

نمازعصر کے بعد سورۃ اخلاص ہمارے بتائے ہوئے طریقے سے پڑھنے کے فوائد

بی کیونیوز! نمازعصر کے بعد سورۃ اخلاص ہمارے بتائے ہوئے طریقے سے پڑھنے کے فوائد۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ہم غزوہ تبوک میں آپﷺ کے ساتھ تھے ایک دن سورج ایسے نور اور روشن کرنوں کے ساتھ طلوع ہوا کہ اس سے پہلے ہم نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ تھوڑی دیر بعد حضرت جبرائیل ؑ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جیسے آج سورج طلوع ہوا اس سے پہلے ایسا کبھی ہم نے نہیں دیکھا۔ تو انہوں نے عرض کیا کہ آپﷺ کے صحابی معاویہ بن معاویہ لیسی مدینہ طیبہ میں انتقال فرما گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے

ان کی نماز جنازہ میں ستر ہزار فرشتے بھیجے ہیں۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا انہیں یہ مقام کیسے حاصل ہوا۔ سیدنا جبرائیل ؑ نے فرمایا کہ وہ دن رات چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھے ہر حالت میں سورہ اخلاص کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ یہ اسی کا اجر ہے ۔یہ سورۃ ہر مسلمان مرد و زن اور ہر بچے بچی کو یاد ہوتی ہے۔ اس حساب سے ان کے فضائل کا حصول ہم میں سے ہر شخص کی دسترس میں بھی ہے۔ کیوں نہ ہم آج سے ہی ان فضائل کے حصول کے لئے کمربستہ ہوجائیں۔ سورہ اخلاص کی تلاوت اس کے فضائل کو سامنے رکھتے ہوئے کرنے کا اہتمام کریں۔ تو انشاءاللہ ہمارے نامہ اعمال میں بھی یہ تمام اجرو ثواب لکھے جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے نگاہ میں اس سورت کی بڑی اہمیت تھی اور آپ مختلف طریقوں سے مسلمانوں کو اس کی اہمیت وقتا فوقتا محسوس کرواتے تھے۔ احادیث میں یہ روایت کثرت سے بیان ہوئی ہے کہ حضور ﷺ مختلف مواقع پر اور مختلف طریقوں سے بتایا کہ یہ سورت ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔ آج کی اس تحریر میں اس سورت کو سورج نکلنے سے پہلے چار بار پڑھنے کی فضیلت بتائی جائے گی۔ اور حضرت علی ؓ نے اس سورت کے کیافضائل بتائے ہیں اور اس کو پڑھنے سے ہمیں آخر کیا حاصل ہوگا؟ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ روایت کرتے ہیں کہ قریش کے لوگوں نے پیارے رسول ﷺ سے کہا کہ آپ اپنے رب کا نسب ہم سے بیان کیجئے تو اسی کے جواب میں یہ سورت نازل ہوئی خیبر کے کچھ یہودی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ اے ابو القاسم اللہ نے ملائکہ کو نور سے پیدا کیا اور آدم کو مٹی سے پیدا کیا اور سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ابلیس کو آگ کے شعلے سے آسمان کو دھوئیں اور پانی کو جھاگ سے بنایا اب ہمیں اپنے رب کے متعلق بتائیے کہ وہ کس چیز سے بنا ہے وہ سونے سے بنا ہے؟ یا تانبے سے؟ یا لوہے سے؟ یا چاندی سے؟ کیا وہ کھاتا پیتا ہے؟ اور کس سے اس نے وراثت پائی ہے؟ اور اس کے بعد اس کا وارث کون ہوگا؟ اس پر اللہ پاک نے

اس سورت مبارکہ کا نزول فرمایا۔ اس سورت کی بہت فضیلت ہے ۔نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو سورہ اخلاص کی تلاوت کرتے ہوئے دیکھ کر فرمایا کہ واجب ہوگئی۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ نے پوچھا کہ کیا واجب ہوگئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: کہ جنت واجب ہوگئی آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اس پوری سورت کو دس مرتبہ پڑھ لے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ایک محل کی تعمیر کر دے گا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: یا رسول اللہ ﷺ پھر تو ہم بہت سے محل بنوا لیں گے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا اللہ رب العزت اس سے بھی زیادہ اور اس سے بھی اچھا دینے والا ہے۔ اس کو پڑھنے کی بہت زیادہ فضیلت علمائے کرام نے بتائی ہے۔

Leave a Comment