حضرت یوسفؑ کی تُربت مبارک کا حیرت انگیز واقعہ

حضرت یوسفؑ کی تُربت مبارک کا حیرت انگیز واقعہ

بی کیونیوز! آپؐ نے فرمایا: افسوس! تو نے بنی اس-ر-ا-ئ-یل کی بڑھیا جیسا سوال نہ کیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا وہ واقعہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جب کلیم اللہ بنی اس-ر-ا-ئ-یل کو لے کر چلے تو راستہ بھول گئے، ہزار کوشش کی لیکن راہ نہ ملی۔ آپ نے لوگوں کو جمع کرکے پوچھا یہ کیا اندھیرا ہے؟ تو علمائے بنی اسرائیل نے کہا بات یہ ہے کہ حضرتِ یوسف علیہ السلام نے

اپنے آخر وقت میں ہم سے عہد لیا تھا کہ جب مصر سے چلیں تو آپ کے تابوت کو بھی یہاں سے اپنے ساتھ لیتے جائیں۔ حضرتِ موسٰی علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ تم میں سے کون جانتا ہے کہ حضرتِ یوسف علیہ السلام کی تربت کہاں ہے؟ سب نے انکار کردیا کہ ہم نہیں جانتے، ہم میں ایک بڑھیا کے سوا کوئی بھی آپ کی ق-ب-ر سے واقف نہیں۔ آپ نے اس بڑھیا کے پاس آدمی بھیج کر اسے کہلوایا کہ مجھے حضرتِ یوسف علیہ السلام کی ق-ب-ر دکھلا۔ بڑھیا نے کہا ہاں دکھلاوں گی، لیکن پہلے اپنا حق لے لوں، حضرتِ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: تو کیا چاہتی ہے؟ اس نے کہا جنت میں آپ کا ساتھ مجھے میسر ہو۔ آپ علیہ السلام پراس کا یہ سوال بہت بھاری پڑا۔ اس وقت وحی آئی کہ اس کی بات مان لو، اس کی شرط منظور کرلو۔ اب وہ آپ کو ایک جھیل کے پاس لے گئی، جس کے پانی کا رنگ بھی

متغیر ہو گیا تھا اور کہا اس کا پانی نکال ڈالو۔ جب پانی نکال دیا گیا اور زمین نظر آنے لگی تو کہا: اب یہاں کھودو، کھودنا شروع ہوا تو ق-ب-ر ظاہر ہوگئی، تابوت ساتھ رکھ لیا۔ اب چلنے لگے تو راستہ صاف نظر آنے لگا اور سیدھی راہ لگ گئی۔ جو آپ کا تابو ت تھا وہ سنگ مرمر کا بنا ہواتھا۔ اور اس کو حضرت موسی ؑ ف-ل-س-ط-ی-ن لے گئے۔ اور حضرت اسحاق ؑ اور حضرت یعقو ب ؑ کے برابر لاکر ان کو د-ف-ن فرما دیا۔ یہ حضرت یوسفؑ کی ق-ب-ر مبارک جو ہے اس کے متعلق حیرت انگیز واقعہ کہ اللہ پاک نے ا ن کی ق-ب-ر مبارک کو ایسے پوشیدہ کردیا۔ گویا ایک دریائے نیل کے کنارے جو جھیل بنی ہوئی تھی اس کے اندرے رکھا گیا۔ اور تابو ت بالکل محفوظ رہا۔ چونکہ وہ سنگ مرمرکا بنا ہواتھا۔ بہرحال نبی اکرم ﷺ نے اس اعرابی سے ارشاد فرمایا: کہ مجھے تو شک تھا کہ کہیں تم نہ کہہ دو کہ

یاسول اللہ ﷺ میں آپ کا ساتھ چاہتا ہوں۔ جنت میں آپ کے ساتھ رہوں۔ جیسے اس بڑھیا نے کہا تھا۔ تو حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: تم نے دنیا کی چیزیں طلب کر لی ہیں اور اس بڑھیا نے جو بڑی سمجھدار تھی آخرت کی ایک بہت بڑی چیز کہ موسی ؑ کی رفاقت نصیب ہوجائے۔ وہ طلب کرلی۔ بہرحال ہرانسان کا اپنا ذہن ہے کہ وہ کس موقع پر، کس جگہ کس سے کیا چیز مانگتا ہے؟ دعاہے اللہ ہمیں بھی جنت میں حضور اکرم ﷺ کا قرب نصیب فرمائے۔ آمین اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی وناصر ہو. آمین

Leave a Comment