کتنے گھٹنے سونے والے نوجوان بہتر تعلیمی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ طبی ماہرین کی رپورٹ

کتنے گھٹنے سونے والے نوجوان بہتر تعلیمی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ طبی ماہرین کی رپورٹ

بی کیونیوز! طبی ماہرین نے کہا ہے کہ 7 گھنٹے سونے والے نوجوان 9 گھنٹے سونے والوں کی نسبت بہتر تعلیمی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ امریکی جریدے میں برمنگھم یو نیورسٹی کے ماہرین کی جانب سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیند کے دورانیے کے طلبا کی تعلیم اور صحت پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ماہرین نے پرائمری اور ثانوی جماعت کے 1724 طلبا پر تحقیق کی

جس کے مطابق 7 گھنٹے سونے والے 13 سے 19 سال والے طالب علم 9 گھنٹے سونے والے طالب علموں کی نسبت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق عمربڑھنے کے ساتھ ساتھ اسکول کے طالب علموں کو نیند کی بھی کم ضرورت ہوتی ہے۔ جیسا کہ 10 سال کی عمر والوں کو 9 سے ساڑھے 9 گھنٹے، 12 سال والوں کو 8 سے ساڑھے 8 گھنٹے اور 16 سال کی عمر والے طالب علموں کو 7 گھنٹے نیند کی ضرورت ہوتی ہے. نیند کی کمی کے اثرات. نیند کی کمی سے تھکاوٹ اور توانائی کی کمی کا احساس ہوتا ہے۔ نیند کی کمی چاہے اپنی مرضی سے ہو یا پھر مجبوری کی حالت میں، اگلے دن نیند کا تقاضا بڑھ جاتا ہے۔ نیند کی متواتر اور مستقل کمی سے نیند جمع ہوتی جاتی ہے جو جمائی کی صورت میں انسان بار بار محسوس کرتا ہے۔ تاہم نیند کی بحالی کے بعد یہ صورت حال

کم ہوتی جاتی ہے، نیند کی کمی یا ناکافی نیند کی صورت میں کئی مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ نیند کی کمی تھکن کا باعث ہوتی ہے، یہ حالت کمزوری اور یادداشت میں کمی کا باعث بھی بنتی ہے، دیگر باتوں میں چ-ڑچ-ڑاپن، افسردگی کی علامات، تعلقات میں خرابی سمیت بعض دوسری منفی چیزیں شامل ہیں۔ اسی طرح مناسب نیند نہ کرنے کے باعث معاملہ فہمی میں دشواری یا سستی پیدا ہوتی ہے، کسی بھی عمل کا ردعمل نامناسب ہو سکتا ہے، اس سے خ-ط-ر-ا-ت کا احتمال بڑھ جاتا ہے، مختلف بیماریاں ح-م-لہ آور سکتی ہیں، نفسیاتی تناؤ بڑھ جاتا ہے، پٹھوں میں در، چکر آنے سمیت دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس سے انسان کی صلاحیتیں بھی متاثر ہوتی ہیں یعنی مجموعی طور پر بے خوابی کے کئی منفی اثرات سامنے آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی وناصر ہو. آمین

Leave a Comment