جنت کے درخت کیسے ہوں گے؟

جنت کے درخت کیسے ہوں گے؟

بی کیو نیوز! جنت کے درخت کیسے ہوں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے:”جنت میں ایک ایسا درخت ہے کہ جس کے سائے میں ایک سوار سو سال تک چلتا رہے تو وہ اسے طے نہیں کر سکتا۔ اگر تم چاہو تو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھ لو: (وَظِلٍّ مَّمْدُودٍ) (رواہ البخاری والترمذی) حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے

فرمایا: (إِنَّ فِی الجَنَّةِ شَجَرَةً، یَسِیرُ الرَّاکِبُ الجَوَادُ المُضَمَّرُ السَّرِیعُ مِائَةَ عَامٍ مَا یَقطَعُہَا) (رواہ مسلم: 2828) “بےشک جنت میں ایک درخت ایسا ہے جس کے سائے میں خوب پالا ہوا، تیز رفتار گھوڑا ایک سو سال تک دوڑتا رہے تو اسے طے نہ کر سکے۔” سلیم بن عامربیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ فرماتے تھے: “بےشک اللہ تعالیٰ ہمیں دیہاتیوں اور ان کے مسائل کے ذریعے بھی نفع پہنچاتا ہے۔ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے جنت کے ایک درخت کا ذکر کیا ہے جو تکلیف پہنچاتا ہے۔ حالانکہ میں تو سمجھتا تھا کہ جنت میں کوئی ایسا درخت نہیں ہوگا جس سے کسی جنتی کو تکلیف پہنچےگی! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: وہ کون سا درخت ہے؟ اس نے کہا: بیری کا درخت

جس کے کانٹے تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا: (فِي سِدْرٍ مَّخْضُودٍ) وہ (جنتی) بغیر کانٹے والی بیریوں کے درختوں میں ہوں گے۔” اللہ تعالیٰ اس کے ہر کانٹے کی جگہ ایک پھل اگائےگا۔ اور ہر پھل سے بہتر (72) قسم کے کھانے تیار ہوں گے۔ ان میں سے ہر کھانا دوسرے سے مختلف ہوگا۔” (رواہ ابن أبی الدنیا وقال الألبانی: صحیح لغیرہ) واللہ اعلم باالصواب. اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی وناصر ہو. آمین

Leave a Comment