حضرت علیؓ نے فرمایا: پانچ آدمیوں کو نیند نہیں آتی؟

حضرت علیؓ نے فرمایا: پانچ آدمیوں کو نیند نہیں آتی؟

حضرت علیؓ نے فرمایا: پانچ آدمیوں کو نیند نہیں آتی؟ ایک جو کسی کے ق-ت-ل کا ارادہ کرتا ہو! دوسرا جس کے پاس مال و دولت ہو اور اسے کسی پر بھروسہ نہ ہو۔ تیسرے وہ جس نے لوگوں سے بہت سی جھوٹی باتیں کہی ہوں، اور لوگوں پر جھوٹے الزام لگائے ہوں۔  چوتھا وہ جس کی ذمہ داری زیادہ ہو لیکن اس کے پاس دینے کے لئے کچھ نہ ہو۔ پانچواں وہ جو کسی کے عشق میں مبتلا ہو اور جدائی

سے ڈرتاہو۔ جب کسی انسان کے آگے روشنی ہوتی ہے تو اس کا سایہ پیچھے آتا ہے، اور جب روشنی پیچھے ہوتی ہے تو اس کا سایہ آگے آتا ہے، دین روشنی ہے اور دنیا سایہ ہے! دین کو آگے رکھو گے تو دنیا خود ہی پیچھے سے بھاگتی آئے گی اور دین کو پیچھے رکھو گے تو دنیا آگے بھاگے گی، اور تم پیچھے بھاگو گے! اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو دین کی فکر نصیب فرمائے۔ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: لوگوں کو تقویٰ سے زیادہ کسی چیز کی تاکید نھیں کی گئی اس لئے کہ یہ ہم اہلِ بیت کی وصیت ہے۔ حضرت علی علیہ السلام نے امام حسن سے فرمایا: بچہ کا دل خالی زمین کے مانند ہے جو بھی اسے تعلیم دی جائے گی وہ سیکھے گا۔ لٰہذا میں نے تمھاری تربیت میں بھت ہی مبادرت سے کام لیا، قبل اس کے کہ تمھارا دل سخت اور فکر مشغول ھو جائے۔

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: خیر وعافیت کے 10 جزا ھیں ان میں سے 9 جزا خاموش رہنے میں ہیں سوائے ذکر خدا کے اورایک جز بیوقوفوں کی مجلس میں بیٹھنے سے پرہیز کرنے میں ہے۔ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: جو شخص اپنے کو لوگوں کی پیشوائی و رہبری کے لئے معین کرے اسکے لئے ضروری ہے کہ لوگوں کو تعلیم دینے سے پھلے خود تعلیم حاصل کرے، اور آداب الٰہی کی رعایت کرتے ھوئے لوگوں کو دعوت دے، قبل اس کے کہ زبان سے دعوت دے یعنی سیرت ایسی ہو کہ زبان سے دعوت دینے کی ضرورت نہ پڑے۔ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: ہر وہ شخص جسکی تمام کوشش پیٹ بھرنے کے لئے ہے اسکی قیمت اتنی ہی ہے جو اس کے پیٹ سے خارج ھوتی ہے۔ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: آگاہ ہو جاو! وہ علم کہ

جس میں فہم نہ ہو اس میں کوئی فائدہ نہیں ہے، جان لو کہ تلاوت بغیر تدبر کے کے سود بخش نھیں ہے، آگاہ ھو جاؤکہ وہ عبادت جس میں فہم نہ ہو اس میں کوئی خیر نہیں ہے۔ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: وہ شخص جو جہاد کرے اورج-ام ش-ھ-اد-ت نوش کرے اس شخص سے بلند مقام نھیں رکھتا جو گ-ن-ا-ہ پر قدرت رکھتا ھو لیکن اپنے دامن کو گ-ن-ا-ہ سے آلودہ نہ کرے۔ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں: حقیقت توبہ چار ستونوں پر استوار ہے: دل سے پشیمان ھونا، زبان سے استغفار کرنا، اعضاء کے عمل کے ذریعے اور دوبارہ ایسا گ-ن-ا-ہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرنا۔ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: اپنے علم کو ج-ہ-ل میں اور یقین کو شک میں تبدیل نہ کرو۔ جب کسی چیز کے بارے میں علم ھو جائے تو اسی کے مطابق عمل کرو اور جب یقین کی منزل تک پھونچ جاؤ تو اقدام کرو. اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی وناصر ہو. آمین

Leave a Comment