Story of Creation of the world

This post contains Urdu and English.

The Qur’an explains the story of the creation of world in the following verses:

“O mankind, fear Your Lord, who created you from one soul and created from it its mate and dispersed from both of them all men and women. And fear Allah, through whom you ask one another, and the kinship. Indeed Allah is ever, over you, an Observer.” (Qur’an 4: 1)

If you were to receive a gift, for no reason, a simple drink or a book, I’m sure you would be inclined to say, ‘Thank you.’

Surely the designer who gave you eyes, heart and lungs should be thanked, acknowledged and praised. 

Allah tells us that this is the purpose of life; to acknowledge Him, worship Him and obey Him.


“And I did not create the jinn and mankind except to worship Me.” (Qur’an 51: 56)

By acknowledging Him in all that we do, we thank Him for the food He provides, the drink to quench our thirst, the clothes we wear، everything should have some recognition for Him.

When it comes to the creation of man. It was made very clear in the beginning that when Allah created man it was not in vain. That he was created as God’s vicegerent on earth. Man has been entrusted with the task of cultivating, maintaining and ruling the earth according to divine guidance with justice amongst all that exists.

“And [mention, O Muhammad], when your Lord said to the angels, Indeed, I will make upon the earth a successive authority.” (Qur’an 2: 30)

Also in the creation of mankind some of the divine attributes of mercy, forgiveness and kindness are manifest.

اَللّہ قرآن میں فرماتا ہے۔

.قرآن نے انسان کی تخلیق کو مندرجہ ذیل آیت میں بیان کیا ہے

اے انسان! اپنے رب سے ڈر جس نے آپ کو ایک روح سے پیدا کیا اور اس سے پیدا کیا اور ان دونوں مردوں اور عورتوں سے بھرا ہوا۔

اور اللہ سے ڈرو، جس کے ذریعہ تم ایک دوسرے سے پوچھتے رہو. بےشک خدا ہی تم پر غالب ہے۔ 

اگر آپ کسی سے تحفہ وصول کرتے ہیں۔ اور بغیر کسی وجہ کے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ اس کا شکریہ ادا کریں گے۔

یقینا اللہ نے آپ کو آنکھیں، دل اور پھیپھڑوں دیے ہیں تو آپ کو شکریہ ادا کرنا چاہیے۔ اعتراف کریں اور تعریف بھی کریں۔

اللہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ یہ زندگی کا مقصد ہے۔ اسے تسلیم کرنے کے لئے، اُس کی عبادت کرو اور اس کا اطاعت کرو۔

” (اور میں نے جنوں اور انسانوں کو میری عبادت کرنے کے سوا نہیں بنایا۔” (قرآن 51: 56)

ہم اس پر اعتراف کرتے ہیں، ہم اس کے کھانے کے لۓ اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں، ہمارے پیاس کو لوٹنے کے لئے پانی، ہم کپڑے پہنتے ہیں۔ سب کچھ اس کے دیے ہوۓ کو تسلیم کرنا چاہئے۔ جب انسان کی تخلیق کی گئی تو یہ شروع میں واضح ہو گیا تھا کہ جب اللہ نے انسان کو خلق کیا تو یہ بے اختیار نہیں تھا کہ وہ زمین پر خدا کا نائب بن گیا۔ انسان کو ان سب کے درمیان انصاف کے ساتھ الہی رہنمائی کے مطابق زمین، کشتی، برقرار رکھنے اور حکمرانی کرنے کے کام کے ساتھ ملا دیا گیا ہے۔

اور [ذکر کرو] جب آپ نے رب فرشتوں سے کہا، میں زمین پر ایک مستقل اختیار کرتا ہوں۔” (قرآن 2: 30)

اس کے علاوہ انسان کی تخلیق میں کچھ خدا کی رحمت، بخشش اور رحم کی ظاہر ہوتی ہے۔

%d bloggers like this: