the-holy-quran
The Holy Quran

The Holy Quran

قرآن مجید اور انگریز ۔ مقدس کتاب

The Holy Quran

تقریبا سو سال پہلے انگلینڈ میں ایک گلیڈ اسٹون نام کا وزیر اعظم تھا۔ وہ انجیلیکین چرچ کے ایک اعلی عہدے پر فائزتھا۔ سن 1882 کی بات ہے کہ ایک دن وہ برطانوی پارلیمنٹ میں تقریر کر رہا تھا کہ مصر میں مسلمانوں کی طاقت کو کس طرح کمزور کیا جائے تاکہ انگریزوں ان پر حکمرانی چلے۔

اس نے اپنے ہاتھ میں قرآن پاک کی ایک کاپی اٹھائی اور کہا کہ جب تک یہ کتاب مصرکے مسلمانوں کے پاس ہے۔ انگریز کبھی بھی ان پر غلبہ حاصل نہیں کرسکیں گے۔  اس نے کہا کہ قرآن مجید کو مصر کے مسلمانوں سے الگ کرکے ہی ان پر غلبہ حا صل کیا جا سکتا ہے۔

گلیڈ اسٹون کی تجویزپرعمل کرنے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ کمیٹی نے مصر میں کچھ ماہرین بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ جو کہ وہا ں جا کر ایک ایسی مہم چلائیں گے جس سے لوگوں کا اعتماد کمزور ہوجائے اور انہیں قرآن مجید کی سچائی پر شک ہونے لگ جائے۔ ان لوگوں مقصد یہ تھا کہ لوگوں کی حوصلہ شکنی کی جائے کہ وہ اپنی مقدس کتاب کی طرف رجوع  کرنا چھوڑ دیں اور آہستہ آہستہ انہیں اسلامی طرز زندگی سے دور ہو جائیں۔

اسی دوران ، ڈنلوپ کے نام کے ایک شخص کو استا د بنا کرمصر بھیجا گیا۔ اس نے بہت ساری کتابیں تیار کیں جوبہت سے  جھوٹےپرپیگنڈے کے اسباق پر مشتمل تھیں۔ ان کتابوں میں تاریخ کا ایک سبق اس بات پر بھی  مبنی تھا کہ مصر کس طرح اسلام اور قرآن پاک کی وجہ سے پیچھے رہ گیا تھا اورترقی نہیں کر رہا تھا۔ اس میں یہ پروپیگنڈا کیا گیا تھا کہ اسلام کے آنے سے قبل مصر کے لوگ بہت زیادہ مہذب ہو تے تھے۔

اس طرح کے بہکانے والے پروگراموں سے وہ لوگ اسکولوں میں موجود نوجوانوں کو متاثر کرنے میں پہلے کچھ حد تک کامیاب ہوئے۔ اس بات کو مدنظر رکھ کرالازہر یونیورسٹی کے کچھ افراد نے یونیورسٹی کے سامنے احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ اس نظام کا خاتمہ کیا جائے۔

اب ہم آگے پڑھتے ہیں کہ قران پا ک کی کچھ خصوصیات جو کے دشمنوں نے مسلمانوں سے دور کرنے کی کوشش کی تھی۔

قرآن پاک کو القرآن کہا جاتا ہے جس کا مطلب’پڑھنا’ ہے۔ حضرت محمد ﷺ  مکہ سے دور پہاڑ حرا کے ایک غار میں جا کر عبا دت میں مشغول رہتے

quran majeed
Quran

تھے۔ ۔ ایک دن حضرت جبرائیل ان  کے پاس آیے اور کہا  کہ”پڑھیں”۔  آپ ﷺ نے کہا کہ میں پڑھنا نہیں جانتا ہوں۔ حضرتجبرائیل نے کہا اپنے رب کے نام سے پڑھیں جس نے ۔ انسان کو محض جمے ہوئےخون  سے پیدا کیا۔ پھر کہا کہ پڑھیں آپ کا پروردگار بڑا مہربان ہے وہ جس نے قلم کا استعمال سکھایا۔ انسان کو وہی سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا۔ تب آپ نے الۤلہ کے حکم سے پڑھنا شروع کیا۔

قرآن مجید الۤلہ کا کلام ہے۔ الۤلہ تعالیٰ نے قرآن پاک کو اپنے پیارے نبی محمد ﷺ پر نازل کیا۔ یہ کتاب ہمیں ہماری روزمرہ کی زندگی کے لئے رہنمائی فراہم کرتی ہے۔  اورہمیں اللہ کے احکامات پر عمل کرنے کی تاکید کرتی ہے۔ یہ رسول الۤلہ ﷺ کا ایک معجزہ ہے۔ اس میں کو ئی شک نہیں ہے کہ یہ مقدس کتاب پچھلے 1400 سالوں سے برقرار ہے۔ اور یہ قیامت تک ایسے ہی ہما ری رہنمائی کر تی رہے گی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت  کا ذمہ خود اٹھایا ہے۔

“بےشک یہ (کتاب) نصیحت ہمیں نے اُتاری ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں”  

(سور حجر ، 15:9 )

قرآن پا ک میں 114 سورتیں ہیں۔ اور اسکی آیا ت 6226 ہیں۔ اس کے الفاظ 330110 ہیں۔

امام جعفر صادق  نے فرمایا ہے کہ ہمیں ہر روز کم از کم 50 آیات پڑھنی چاہئیں۔ لہذا، ہمیشہ یہ ہما رے دلوں میں رہے اور ہمارا الۤلہ سے ہمیشہ رابطہ رہے اور یہ ہمیشہ ہما ری رہنما ئی کرتی رہے۔

%d bloggers like this: