tit-for=tat
Hell

Tit for Tat-اعمال کا بدلہ

 Tit for Tat-اعمال کا بدلہ

 

یہ قدرت کا قانون ہے کہ ہم اس دنیا میں جو بھی عمل کرتے ہیں۔ اس کا ہمیشہ ایک رد عمل ہمیں ملتا ہے۔ اگر ہم کوئی اچھا عمل ثواب حاصل کرنے کے لئے کرتے ہیں تو اسکا بدلہ ہمیں ضرور ملتا ہے۔ اگر ہم برے کام کرتے ہیں تو تب بھی ہم اسکا نتیجہ بھگتتے ہیں۔  ہم چاہیں یا نہ چا ہیں ہمیں اپنے ہر عمل کا حساب دینا ہے ۔ ایک مشہور کہاوت  ہے کہ جو آپ بوتے ہو۔ وہی  کاٹتے ہو۔

اس با رے میں قرآن مجید ہماری رہنمائی اس طرح کرتا ہے کہ

quran-tit-for-tat
Quran

“اگر تم بھلائی کرو گے اپنا بھلا کرو گے اور برا کرو گے تو اپنے ساتھ ہی برائی کرو گے”

(قرآن: باب 17 ، آیت 7)

حضرت محمد ﷺ کے ایک صحابی اس آیت کو بہت پسند کرتے تھے اسلئے وہ جب بھی جہاں بھی جا تے تھے وہ اس آیت کی زور زور سے تلا وت کرتے  تھے۔ایک یہودی عورت جس نے ان کو  ایک بار پڑھتےسنا تھا وہ اسے غلط ثابت کرنا چاہتی تھی۔ اوراس طرح ان کو اپنے لوگوں میں بدنام کرنا چاہتی تھی۔  تواس عورت نے اس کے خلاف سازش کرنے کا پروگرام بنایا۔

 

اس عورت نے زہر ملا کے کچھ مٹھائیاں تیار کیں اور انہیں بطور تحفہ بھیجیں۔ وہ تحفہ انہوں نے لیا۔ اورساتھ  ہی شہر سے باہر  کسی کام سے چلے گئے۔ راستے میں ، ان کی ملا قات دو افراد سے ہوئی۔ جوکہ ایک طویل سفر سے گھر لوٹ رہے تھے۔ وہ انکو بہت تھکے ہوئے اور بھوکے لگے۔ توآپ نے وہ مٹھا ئی انکو دی وہ اس بات کے بارے میں نہیں جانتے تھے کہ اس میں زہر ملا ہوا ہے۔ جیسے ہی دونوں نے مٹھائی کھا ئی توجلد ہی دونوں مسافروں کی حالت خراب ہو ئی اوروہ منہدم ہو کے فوت ہوگئے۔

 

جب ان کی وفات کی خبر مدینہ پہنچی۔ ، تو ان صحابی کو گرفتار کرلیا گیا۔ اور انکو نبی ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا اور جو کچھ ہوا انہوں نے اس کے با رے میں بتا یا کہ وہ مٹھا ئی یہودی عورت نے انکو تحفہ کے طور پر دی تھی اور جب وہ عورت وہا ں پہنچی تو موجود مسافروں کی دو لاشوں کو دیکھ کر دنگ رہ گئ۔ حقیقت میں وہ اس کے اپنے ہی دو بیٹے نکلے۔ جو سفر پر چلے گئے تھے۔  اور لو ٹ رہے تھے۔ اس نے وہا ں موجود تمام لوگوں کے سامنے اپنی بری نیت کا اعتراف کیا۔  افسوس! کہ اس نے آپ ﷺ کے ساتھی کو مارنے کے لئے لئے مٹھائی میں جو زہر ملایا تھا اس سے اپنے ہی دو بیٹوں کو ما ر ڈالا تھا۔

 

اس کے برے فعل پر یہ افسوسناک رد عمل،  اسکی عمدہ مثال نہیں ملتی ہے۔ اس سے ہمیں یہ نصیحت ملتی ہے  کہ کوئی اپنی بوئی ہو ئی فصل کو کس طرح کاٹ سکتا ہے۔

ہمیشہ دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہئے۔ علمائے کرام اور دانشمند ہمیں ہمیشہ اچھے کی ہی تر غیب دیتے رہے ہیں وہ ہمیشہ ہمیں دوسروں کے ساتھ بھلائی کرنا سکھاتے ہیں ۔

%d bloggers like this: