Uzair-Ezra-seleeps-for-100-years

Uzair (Ezra) Sleeps For 100 Years

Uzair (Ezra) Sleeps For 100 Years

حضرت عزیر  کا سو سال تک سونا

اسحاق ابن بشر سے روایت ہے  کہ عزیر ایک صوفی ،عقلمند اور نیک انسان تھے۔ ایک دن وہ اپنے ہی باغوں پر گئے۔ جو کہ ان  کا روز معمول تھا۔ اور اس دن وہ دوپہر کے قریب  ایک ویران ، تباہ شدہ جگہ پر آئے اورتھوڑی زیادہ گرمی محسوس کی۔ وہ کھنڈرات بنے ہوئے شہر میں داخل ہوئے اور اپنے گدھے کو بھی وہا ں ساتھ  لے کر گئے۔ اور کچھ انجیر اور انگور سے اپنی ٹوکری کو بھر لیا۔ وہ ایک  درخت کے سائے میں بیٹھ گئے اور کھانا کھایا۔ پھر وہ اٹھ کھڑے ہوئے یہ دیکھنے کے لئے کہ کھنڈرات میں کچھ بچا ہوا ہے کہ نہیں۔  لوگ وہاں کے بلکل ختم ہو چکے تھے۔  اور ایک طویل عرصے سے وہ تبا ہ شدہ جگہ ایسے ہی Uzair (Ezra) Sleeps For 100 Yearsپڑی تھی۔ اورانہوں  نے وہاں بہت سی ہڈیوں کو دیکھا۔

قرآن مجید  میں فرمان ہے کہ 

 یا اسی طرح اس شخص کو (نہیں دیکھا) جو ایک بستی پر سے گزرا جو اپنی چھتوں پر گری پڑی تھی تو اس نے کہا کہ اللہ اس کی موت کے بعد اسے کیسے زندہ فرمائے گا۔ سورہ 2: 259

یہ بات انہوں نے شک و شبہ کی بنیاد پرنہیں بلکہ با قیات کو دیکھ کر کچھ  تجسس کی بنا پر کہی۔ ان کی اس بات پر الۤلہ نے اس وقت وہاں موت کو فرشتہ بھیجا تاکہ اس کی جان لے۔  اور فرشتے نے انکی جان لی اور وہ ایک سو سال تک مردہ رہے۔

ہڈیوں کا بوسیدہ ہونا

ایک سو سال گزر  گیا  اور اسرائیلی امور میں کا فی تبدیلیاں آ گئیں تھیں۔ اللہ نے ایک فرشتہ بھیجا، جو عزیر کے دل کی دھڑکن واپس لائے اور اس کی آنکھوں کو بھی زندہ کرے تاکہ عزیر کو یہ با ت  محسوس ہو سکے کہ اللہ مردوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے۔ فرشتہ نے عزیر سے کہا کہ: “تم کب تک سوتے رہے؟”  تو اس پر انہوں نے جواب میں کہا کہ: “ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔” انہوں نے یہ بات اس لئے کہی کیونکہ ان کو یہ پتا تھا کہ وہ دوپہر کے اوائل میں سو گئے تھے اور دوپہر کے آخر میں جاگ گئے۔ فرشتہ نے انکو جواب میں کہا کہ: “آپ سو سال سے سو رہے تھے۔”

انکے گدھے کی ہڈیا ں بھی بو سیدہ ہو گئی تھیں۔ لیکن کھانے کی اشیا بلکل تازہ تھیں۔ فرشتے نے انکے گدھے کو بھی الۤلہ کے حکم سے زندہ کیا۔ یہ منظر دیکھ کر وہ اشکبار ہوئے اور بولے کہ مجھے یقین آگیا ہے الۤلہ ہر چیز پر قادر ہے۔

quran majeed
Quran

:اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:

 سو (اپنی قدرت کا مشاہدہ کرانے کے لئے) اللہ نے اسے سو برس تک مُردہ رکھا پھر اُسے زندہ کیا، (بعد ازاں) پوچھا: تُو یہاں (مرنے کے بعد) کتنی دیر ٹھہرا رہا (ہے)؟ اس نے کہا: میں ایک دن یا ایک دن کا (بھی) کچھ حصہ ٹھہرا ہوں، فرمایا: (نہیں) بلکہ تُو سو برس پڑا رہا (ہے) پس (اب) تُو اپنے کھانے اور پینے (کی چیزوں) کو دیکھ (وہ) متغیّر (باسی) بھی نہیں ہوئیں اور (اب) اپنے گدھے کی طرف نظر کر (جس کی ہڈیاں بھی سلامت نہیں رہیں) اور یہ اس لئے کہ ہم تجھے لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانی بنا دیں اور (اب ان) ہڈیوں کی طرف دیکھ ہم انہیں کیسے جُنبش دیتے (اور اٹھاتے) ہیں پھر انہیں گوشت (کا لباس) پہناتے ہیں، جب یہ (معاملہ) اس پر خوب آشکار ہو گیا تو بول اٹھا: میں (مشاہداتی یقین سے) جان گیا ہوں کہ بیشک اللہ ہر چیز پر خوب قادر ہے سورہ 2: 259

%d bloggers like this: