When the Soul Comes out

This post contains Urdu and English.

When the human’s soul comes out, the mouth opens. Lips cannot stick to each other at any cost. The spirit moves towards the top pulling from the feet. When the soul is stretched out to the lungs and hearts. So the breath of man starts walking out on one side.

Man’s situation,

That’s the time when a man sees the devil and The Angels in front of him in the world in a few moments. On one hand, the devil gives some advice in his ear. On the other hand, his language wants to pay some words according to his actions. If a person is good then his mind guides his words. If humans are non-Muslims, bad religion or world’s worship. So his mind follows the devil’s advice by confusion and a strange feeling. And very hardly, some words try to play with the language. It is all so fast that the mind does not get the opportunity to think about the wonders of the world. The spirit of man coming out feels a great problem. But he does not get any movement only the brain survives. The soul of the human body gathers in its throat. And the body is like a flesh, there is no movement.

At least,

Finally the brain’s soul is also pulled out. Eyes look after taking the soul. Because eye tricks go up or the direction of the angel is occupied. It leads to this direction. Then man’s life begins a journey. In which the soul begins to feel comfortable with the rest of the palaces, leaving the courtyards of troubles. As it is promised. Who went from the world, never returned back. Because his spirit is waiting for wisdom. Which will be given to the soul. Long term life in this world will not be more than a few seconds for these souls. Man has died since today, millions of years ago. The soul of the believer is drawn in such a way, as the hair is pulled out of the flour. The soul of sinfulness is pulled like a linen cloth on the thorny tree.

ALLAH Almighty,

All of us, Speak at the time of death and easily surrender the soul and make all the moments of death easy with your mercy.


حالتِ نزع

جب روح نکلتی ہے تو انسان کا منہ کھل جاتا ہے۔ ہونٹ کسی بھی قیمت پر آپس میں چِپکے ہوئے رہ نہیں سکتے۔ روح پاؤں سے کھینچتی ہوئی اوپر کی طرف آتی ہے۔ جب پھیپڑوں اور دل تک روح کھینچ لی جاتی ہے۔ تو انسان کی  سانس ایک ہی طرف یعنی باہر ہی چلنے لگتی ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے۔ جب چند لمحوں میں انسان شیطان اور فرشتوں کودنیا میں اپنے سامنے دیکھتا ہے۔ ایک طرف ابلیس اس کے کان میں کچھ مشورے دے رہا ہوتا ہے۔ تو دوسری طرف اسکی زبان اسکے عمل کے مطابق کچھ الفاظ ادا کرنا چاہتی  ہے۔ اگر انسان نیک ہو تو اس کا دماغ اسکی زبان کو کلمہ شہادت کی ہدایت دیتا ہے۔ اگر انسان کافر ہو، بد دین یا دنیا پرست ہوتا ہے۔ تو اس کا دماغ کنفیوژن اور ایک عجیب ہیبت کا شکار ہو کر شیطان کے مشورے کی پیروی کرتا ہے۔ اور بہت ہی مشکل سے کچھ الفاظ زبان سے ادا کرنے کی بھرپور کوشش  کرتا ہے۔ یہ سب اتنی تیزی سے ہوتا ہے کہ دماغ کو دنیا کی فضول باتوں کو سوچنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ روح  نکلتے ہوئے انسان کا ذہن ایک زبردست تکلیف محسوس کرتا ہے۔ لیکن انسان تڑپ نہیں سکتا۔ صرف دماغ زندہ ہوتا  ہے۔ اور انسان کی روح اسکے حلق میں اکٹھی ہوجاتی  ہے۔ اور جسم بے جان لوتھڑے کی طرح پڑا ہوتا ہے۔ جس میں کوئی حرکت کی گنجائش نہیں رہتی۔

آخر کار

آخر میں دماغ کی روح بھی کھینچ لی جاتی  ہے۔ آنکھیں روح کو لے کر جاتے ہوئے دیکھتی ہیں۔ اس لیے آنکھوں کی پُتلیاں اوپر چڑھ جاتی ہیں اور جس سمت فرشتہ روح قبض کر کے جاتا ہے۔ اس سمت کی طرف ہو جاتی ہیں۔

اس کے بعد انسان کی زندگی کا سفر شروع ہوتا ہے۔ جس میں روح تکلیفوں کے تہہ خانوں سے نکل کر آرام کے محلات کی آہٹ محسوس کرنے لگتی  ہے۔ جیسا کہ  اس  سے وعدہ  کیا  گیا  تھا۔ جو دنیا سے  گیا واپس کبھی  لوٹا نہیں۔ کیونکہ اس کی روح عالمِ برزخ کا انتظار کر رہی ہوتی  ہے۔ جس میں روح کو ٹھکانہ دیا جائے گا۔ اس دنیا میں زندگی کی طویل مدت اِن روحوں کے لیے چند سیکنڈز سے زیادہ نہیں ہوگی۔ بےشک انسان آج سے کروڑوں سال پہلے  ہی کیوں نہ مر چکا ہو۔ مومن کی روح اس طرح کھینچ لی جاتی ہے جیسے  آٹے سے بال نکالا جاتا ہے۔ گناہ گار کی روح کانٹے دار درخت پر پڑے سوتی کپڑے کی طرح کھینچی جاتی  ہے۔

اللہ سبحانه وتعالی ہم سب کو موت کے وقت کلمہ طیّبہ نصیب فرمائے  آسانی کی ساتھ روح قبض ہو اور موت کے تمام لمحات کو اپنی رحمت کے ساتھ آسان بنائے۔

آمین یارب العالمین۔

%d bloggers like this: